زینب کے والد نے سپریم کورٹ سے اہلخانہ کی سکیورٹی اور ملزم کو سرعام پھانسی دینے کی استدعا کر دی


لاہور: زینب کے والد امین انصاری نے سپریم کورٹ سے اہلخانہ کی سکیورٹی اور ملزم کو سرعام پھانسی دینے کی استدعا کر دی۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زینب قتل کیس ازخود نوٹس کی سماعت کو ملتوی کردیا گیا ہے ۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثا رنے زینب کے ولد امین انصاری کو روسٹرم پر بلا لیااور ان سے پوچھا کہ آپ اتنے خاموش کیوں بیٹھے ہیں؟آپ کے دل میں جو ہے وہ کہہ دیں ، ہم بحیثیت قوم زینب واقعہ پر شرمند ہ ہیں،میں آپ کو اپنا نمبر دے رہا ہوں،کوئی شکایت ہے تو ہم سے کریں۔اس پر زینب کے والد کمرہ عدالت میں رو پڑے اور انہوں نے کہا کہ ملزم کو میری بیٹی پر رحم نہیں آیا اسے کڑی سزا ملنی چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب کو آپ سے ہمدردی ہے، زینب ہماری بھی بیٹی تھی،ہم آپکے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،آپ جے آئی ٹی میں پیش ہوں۔امین انصار ی نے اہلخانہ کی سکیورٹی اور ملزم کو سرعام پھانسی دینے کی استدعا کر دی جس پر چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو زینب کے اہلخانہ کو سکیورٹی مہیا کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو تو میرے ریڈر غلام رضا کو بتا دیں، زینب آپ کی نہیں میری بچی ہے، کیس کو نقصان نہیں ہونے دیں گے۔

سرعام پھانسی کی استدعا پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے اگر وہ قانون بنا دے گی تو اس پر عملدرآمد کرا دیں گے ،جس پر زینب کے والد نے کہا کہ اگر نااہل وزیراعظم کے لیے پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتی ہے تو ملزم کی سزا عام پھانسی کے لیے بھی قانون منظور کرایا جائے۔