پاکستانی اسٹارٹ اپ رنسٹرا کی حیثیت 20 ملین ڈالر، سیریز۔اے میں 2 ملین ڈالر کا ہدف مکمل

پاکستانی اسٹارٹ اپ رنسٹرا کی حیثیت 20 ملین ڈالر، سیریز۔اے میں 2 ملین ڈالر کا ہدف مکمل
کیپشن:   پاکستانی اسٹارٹ اپ رنسٹرا کی حیثیت 20 ملین ڈالر، سیریز۔اے میں 2 ملین ڈالر کا ہدف مکمل سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد:  تخلیق کاروں کے حوالے سے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل پلیٹ فارم رنسٹرا کا 20 بلین ڈالر تک تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رنسٹرا پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والا پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 76 ملین انٹرنیٹ صارفین ہیں جن میں سے 37 ملین سوشل میڈیا اکاوئنٹس ہیں جوکہ پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے کو حوالے سے ایک سنہرا موقع ہے۔ موبائل انٹرنیٹ ریٹس صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے تفریح کا ایک واحد ذریعہ رہا ہے۔

رنسٹرا پاکستان کے میڈیا ٹیکنالوجی کے زمرے میں اب تک کے سب سے پر کشش اقدام کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بقیہ تمام ایپلیکشن اورپلیٹ فارم خبروں،انٹرٹینمنٹ چینلزاورویڈیوز آن ڈیمانڈ کے حوالے سے محدود اسٹریمنگ فراہم کررہے ہیں۔ اس کے برعکس رنسٹرا نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے تخلیق کاروں کے لئے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ رنسٹرا پاکستان کا نہ صرف پہلا ڈیجیٹل ہلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے بلکہ اس پلیٹ فارم نے حسینہ معین، مہرین جبار جیسے نامور فنکاروں کے ساتھ مل کر مواد تخلیق کرنا شروع کردیا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ نوجوان فلم سازوں کو مختلف موضوعات پر مواد تخلیق کرنے کا مواقع بھی فراہم کررہا ہے۔  

امریکہ میں ہونے والے ڈائس فاوئنڈیشن کے سالانہ اجلاس میں رنسٹرا کو بطور آئیڈیا پیش کیا گیا تھا جہاں نارتھ امریکہ اور یورپ میں مقیم پر عزم پاکستانیوں نے ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروانے کی ضرورت کو محسوس کیا جوکہ پاکستانی تخلیق کاروں اور قصہ گو افراد کو دنیا بھر میں پاکستان کا بیانیہ آگے بڑھانے کے حوالے سے مواقع فراہم کرسکے۔ رنسٹرا کو متعارف کرواتے وقت اسکا سلوگن ' ہماری کہانی،ہمارے مطابق' کے طور پر طے کیا گیاہے۔ پروف آ ف کانسیپٹ کی منظوری کے بعد امریکی پاکستانی نژاد کی جانب سے سیڈ انویسٹمینٹ کے طور پر 5 لاکھ امریکی ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی گئی۔ 'سیریز۔اے 'کی سرمایہ کاری کا ہدف 2 ملین ڈالر تک طے کیا گیا ہے جس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی جانب سے فنڈنگ حاصل کی جائے گی۔

ابھرتی ہوئی اور مستحکم مارکیٹس میں متشابہ کاروبار کے پروجیکٹ انڈسٹری کے کاروبار کے رجحانات کی بنیاد پر رنسٹرا کا 20 بلین ڈالر تکتخمینہ لگایا گیا ہے۔ کانٹینٹ کی طلب اور ڈیجیٹل اسپیس کے لئے نیا مواد نیا مواد تخلیق کرنے کے حوالے سے کاروباری جذبہ اس قسم کے پلیٹ فارمز کے لئے نئی حدو کو عبور کررہا ہے۔

کانٹینٹ ڈائی ورسی فکیشن، شارٹ فارم ویڈیوز، مقامی زبانوں میں تخلیق کردہ مواد اور پاکستان کے پہلے شیڈو بورڈ کی تشکیل جیسے چند بینچ مارکس رنسٹرا کی جانب سے پاکستان کی میڈیا اور ٹیک انڈسٹری میں کامیابی کے ساتھ متعارف کروائے جاچکے ہیں۔ شیڈو بورڈ ایک تصور ہے جوکہ معروف سوشل سائنسدان جنیفر جارڈن اور مائیکل سوریل سے متاثر ہے۔ کاپوریٹ فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی شمولیت کے لئے ان سوشل سائنسدانوں کی جانب سے شیڈو بورڈ کی ضرورت کے حوالے سے 'ہارورڈ بزنس ری ویو' کے لئے مضمون لکھا گیا۔

رنسٹرا کے پلیٹ فارم کی انتظامیہ سنبھالنے کے لئے معروف پاکستانی میڈیا کی شخصیات مصروف عمل ہیں، ان میں سماء ٹی وی،سی این بی سی پاکستان اور ڈی بی ٹی وی لائیو کے سابق سی ای او عامر جہانگیر براہ راست شامل ہیں۔ جہانگیر اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں اسٹینفورڈ  سینٹر  فار انوویشن اینڈ کمیونیکشن کے مشاورتی بورڈ میں بھی رہ چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے 'ینگ گلوبل لیڈر' کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ ورسٹائل اداکار اور ہدایتکار مصباح اسحاق خالد بھی چیف کری ایٹو  افسر کی حیثیت سے رنسٹرا میں شامل ہو گئی ہیں۔ مصباح اسحاق خالد جیو، اے آر وائے انٹرٹینمنٹ، آج ٹی وی، ہم ٹی وی اور پی ٹی وی میں اپنی خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں اور انٹرٹینٹ شعبوں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔انکا پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول منعقد کروانے میں اہم کردار ہے۔  ڈاکٹر عادل اختر، رنسٹرا کے شریک بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین ہیں، جو مصوری میں اپنے جوہر دیکھانے والے نہ صرف ایک مشہور بین الاقوامی فنکار ہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہر آنکولوجسٹ بھی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ڈائس فاوئنڈیشن کے نائب صدر او ر بانیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے وژن کی باعث رنسٹرا نے فلم اور ڈراموں کے ذریعے اپنے ناظرین کے لئے ایک معیار کو تخلیق کیا ہے۔

رنسٹرا ایک بہت ہی منفرد پلیٹ فارم تیار کرنے میں کامیاب رہا ہے جو کہ ڈراموں اور فلموں کو دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنا مواد تیار کرنے کے حوالے سے مواقع بھی فراہم کررہا ہے۔ اس میں کانٹینٹ مقابلوں کو بھی متعارف کیا گیا ہے جس میں پاکستان کے 100 سے زائد تعلیمی ادارے مختلف موضوعات پر مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایپلی کیشن کی فیسٹ فیچر کی وجہ سے کچھ معروف فلم فیسٹیولز نے اپنی فلموں اور دستاویزی فلموں کو ڈیجیٹل نشتریات کے حوالے سے رنسٹرا کے ساتھ اشتراک بھی کیا ہے جس کے ذریعے ملک میں ناظرین کے لئے ایک بے مثال تجربہ پیدا ہوگا۔

 ٓ

ٓآن ڈیمانڈ اسٹریمنگ اور صارفین کی جانب سے تخلیق کردہ مواد کے لئے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ رنسٹرا پاکستان میں تخلیق کاروں، فلم سازوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کررہا ہے۔ رنسٹرا تخلیق کاروں کو دنیا بھر میں موجود پاکستانی کمیونٹی تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔