پانامہ لیکس سے متاثرہ شخصیات کے نام

پانامہ لیکس سے متاثرہ شخصیات کے نام

دنیا کی بڑی شخصیات کو شرمند گی کامنہ تب دیکھنا پڑا جب اپریل 2016 میں جرمن اخبار نے پاناما پیپرزکے بارے ایک رپورٹ جاری کی۔


پاناما لیکس اور آف شور کمپنیز کا جن بوتل سے باہر آنے کے بعد لیکس میں شامل افراد کی نیندیں اڑ گئیں ۔ ان میں سے کچھ نے تو استعفی دے کر جان چھڑانے کو ترجیح دی جن میں آئس لینڈ اور یوکرین کے وزراءاعظم سمیت سپین کے وزیر برائے صنعت بھی شامل ہیں۔برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کےبھی پانامہ لیکس کی وجہ سے اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔

جہاں پاناما پیپرز نے دنیا کو حیران کیا تھا، وہیں اس کے اثرات بھی پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔دوسری عالمی شخصیات نے تو استعفی دینا منا سب سمجھالیکن پاکستان کے وزیر اعظم نوازسریف وہمنوا نے اس لیک کا ڈٹ کرمقابلہ کرنے کی ٹھانی لیکن ادھر بھی وہی ہوا، وزیراعظم پاکستان کو بھی اپنی سیٹ خالی کرنا پڑی۔ان لیکس میں صرف نواز شریف کا نام ہی نہیں بلکہ ان کے بچے حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز کے نام بھی شامل ہیں۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اور پیپلز پارٹی کی ہی سابق وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹوکا نام بھی اس فہرست کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ جہاں تک عالمی سربراہان کا تعلق ہے تو ان میںملائشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق، یوکرائن کے صدر پیٹروپوروشینکو اس کے علاوہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان اور سابق امیر قطر حماد بن خلیفہ کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی کے خلیفہ بن زید بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔

بر طانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ صرف یہی نہیں اس فہرست میں عالمی شہرت یافتہ اداکار بھی شامل ہیں جن میں امیتابھ بچن انکی بہو ایشوریہ اور عالمی شہرت یافتہ اداکار جیکی چائنیز اداکار جیکی چن بھی آف شور کمپنی کے مالک نکلے، کھلاڑیوں میں معروف فٹبالر لیو میسی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔