عام انتخابات 2018 ، کئی سیاسی گھرانوں کی بساط لپٹ گئی

عام انتخابات 2018 ، کئی سیاسی گھرانوں کی بساط لپٹ گئی

فائل فوٹو

پشاور:2018ءکے عام انتخابات کے دوران کئی سیاسی گھرانے شکست سے دوچار ہوئے اور ان کی بساط لپٹ گئی توکئی سیاسی گھرانوں نے اپنی نشستیں کامیابی کی صورت میں مزیدمضبوط کرلیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانافضل الرحمن اور ٹانک سے انکے فرزندکے علاوہ ڈی آئی خان سے انکے بھائی لطف الرحمن بھی حصہ لے رہے تھے جن میں صر ف ان کے صاحبزادے کوکامیابی حاصل ہوئی ،اکرم خان درانی بنوں سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہونے کے علاوہ اپنے صاحبزادے زاہددرانی کے لئے بھی انتخابی مہم چلارہے تھے تاہم دونوں باپ بیٹوں کو بنوں کے عوام نے نامنظورکرلیاالبتہ پی کے90 کی نشست اکرم درانی جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

پشاورسے پیپلزپارٹی کے ارباب عالمگیراوران کی اہلیہ عاصمہ عالمگیرقومی اسمبلی کی نشستوں این اے27اور30 پرامیدوار تھے اسکے علاوہ ان کے صاحبزادے ارباب زرک پی کے74کے امیدوارتھے تاہم خاندان کے تینوں نواب زادہ کو پشاورکے عوام نے ہروادیا۔چارسدہ سے اسفندیارولی خان اورانکے صاحبزادے ایمل ولی خان بھی بری طرح ہارگئے انکی تقلید کرتے ہوئے چارسدہ سے ہی آفتاب شیرپاﺅ اورانکے صاحبزادے سکندرشیرپاﺅکوبھی شکست ہوئی ۔

امیرمقام کے بھائی ڈاکٹرعباد اگرچہ شانگلہ سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تاہم امیرمقام جودوقومی اوردوصوبائی اسمبلی کی نشستوں پرامیدوارتھے،نے بری طرح شکست کھائی ہری پور سے صوبائی اسمبلی کی دونشستوں پر سابق صوبائی وزیر اکبرایوب اور ان کے بھائی نے کامیابی حاصل کی۔سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور ان کے داماد عمران خان نے بھی نوشہرہ سے قومی وصوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابیاں سمیٹیں۔