جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آمنے سامنے 

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آمنے سامنے 
سورس: File

اسلا م آباد: جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان اور سینئر ترین جج سپریم کورٹ آمنے سامنے آگئے ہیں۔  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال  کے نام  ایک اور خط لکھ دیا۔خط میں لکھا کہ آئین پاکستان متوقع آسامیوں پر تعیناتیوں کی اجازت نہیں دیتا۔قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن پہ ہیں۔عوام کا آئینی حق ہے کہ وہ جان سکے کیا فیصلہ کیا گیا۔

  

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے تین جونیئر ججوں کی سپریم کورٹ میں بطور جج نامزدگی اکثریت کیساتھ مسترد کی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کی سپریم کورٹ میں بطور جج نامزدگی بھی اکثریت کیساتھ مسترد کی گئی۔

  

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ میں نے جسٹس سردار طارق مسعود،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ،اٹارنی جنرل،نمائندہ پاکستان بار کونسل نے اکثریت سے نامزدگیاں مسترد کیں۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی بارے غور کیا گیا۔

 چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ملک کی پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے نہ انتہائی سینئر چیف جسٹس ہیں نہ ہی انتہائی سینئر جج ہیں۔ آئین پاکستان متوقع آسامیوں پر تعیناتیوں کی اجازت نہیں دیتا۔چیئرمین جوڈیشل کمیشن نے فیصلے سے متعلق آگاہ نہیں کیا اچانک اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ جسٹس اعجازالاحسن بھی ان کے پیچھے اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔اب قائم مقام سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن چھٹیوں پہ ہیں۔ قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن پہ ہیں۔عوام کا آئینی حق ہے کہ وہ جان سکے کیا فیصلہ کیا گیا۔ قائم مقام سیکرٹری جوڈیشل کمیشن فوری طور پر فیصلے سے متعلق میڈیا کو آگاہ کریں۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ جس میں کہا  گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن  کااجلاس  زیر غور ججز کے حوالے سے مزید معلومات کیلئے چیف جسٹس نے اجلاس موخر کیااگر سربراہ جوڈیشل کمیشن نے مناسب سمجھا تو مزید  نئی نامزدگیوں پہ غور کیا جائے گا۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آئندہ اجلاس  کی تاریخ  بارے جلد جوڈیشل کمیشن ممبران کو آگاہ کیاجائے گا۔ 

مصنف کے بارے میں