'حسن، حسین نواز کو انٹر پول کے ذریعے پاکستان لانے کی منظوری دیدی'

'حسن، حسین نواز کو انٹر پول کے ذریعے پاکستان لانے کی منظوری دیدی'

حسن نواز اور حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جائے گا، چیئرمین نیب۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ حسن نواز اور حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعے لانے کی منظوری دے دی ہے۔

نیب آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ حسن اور حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعے لانے کی منظوری دے دی ہے جب کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ کرپشن کے خاتمہ کے لیے الیکشن کے بعد تک کام جاری رہے گا۔

 

 مزید پڑھیں: نجی اسکولوں کو گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس وصول کرنے سے روک دیا گیا

چیئرمین نیب نے کہا کہ قانون پرعمل درآمد ضروری ہے جو نہیں کرے گا اس سے عمل کروایا جائے گا جبکہ لوگ الیکشن مہم بھی چلائیں اور جب نیب بلائے تو پیش بھی ہوں۔ نوٹس دعوت نامے نہیں ہیں تحقیقات کے لیے قانون کے مطابق بھجوائے جا رہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کر چکی ہے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں