ترکی میں احیائے اسلام کا آفتاب غروب ہو گیا

ترکی میں احیائے اسلام کا آفتاب غروب ہو گیا

ترکی کی عظیم روحانی شخصیت اور ترک صدر طیب اردوان کے پیر و مرشد شیخ محمود آفندی جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ جدید ترکی میں اسلام پسندوں کا مرجع و محور تھے۔ ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ کافی وسیع اور ان کے پیروکاروں کی تعداد کثیر ہے۔

ہمارے محترم دوست اختر جاوید صاحب لکھتے ہیں کہ ترکی میں جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو کچھ علماء نے چھپ چھپ کر اور درختوں کے نیچے دیہات اور گاؤں میں وہاں کے بچوں کو دینی تعلیم دینا شروع کی۔ جب وہاں کے لوگ فوج کو آتے دیکھتے تو فوراً بچے کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ بچے کوئی تعلیم حاصل نہیں کر رہے بلکہ کھیتی باڑی میں مشغول ہیں۔ ان طالب علم بچوں میں شیخ محمود آفندی نقشبندی صاحب بھی شامل تھے، حضرت نے یوں دینی تعلیم کی تکمیل کی اور فراغت کے بعد یہی سلسلہ اپنے گاؤں میں جاری رکھا۔

اسی دوران حضرت آفندی کے دو خلفاء شہید کیے گیے تو حالات کے تناظر میں حضرت آفندی نے وہاں سے شہر کا رخ کیا جہاں ایک قدیم مسجد تھی وہاں رہتے ہوئے حضرت نے چالیس سال تک دین کی تدریس کا کام جاری رکھا۔ تقریباً اٹھارہ سال تک حضرت آفندی کے پیچھے کوئی نماز پڑھنے کیلئے تیار نہیں تھا اٹھارہ سال کے بعد آہستہ آہستہ لوگ آنے لگے اور حضرت آفندی سے فیض یاب ہوتے گئے۔ آج جب اسی مسجد میں اذان ہوتی ہے تو جوق در جوق لوگ نماز کیلئے اس مسجد میں آنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں جو حضرت آفندی جیسے علماء کی محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے۔

جناب اختر جاوید کہتے ہیں کہ ترکی سے جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو وہاں کے بانی کمال اتا ترک نے عربی کتب اور دینی علوم پر مکمل پابندی لگا دی۔ اس وقت حضرت مولانا شیخ محمود آفندی نقشبندی نے اپنے طلبا کو انگلیوں کے اشاروں پر صرف اور نحو کے اسباق پڑھائے۔ حج اور نماز کے مسائل بھی ہاتھوں کے اشاروں سے سمجھائے۔ اللہ تعالی نے حضرت آفندی کے ہاتھوں پر مکمل دینی نصاب رکھ دیا تھا۔

محمود آفندی (محمود استی عثمان اوغلو) 1929 میں ترکی کے صوبے ترابزون کے اوف نامی گاؤں کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دینی ماحول میں پرورش ہوئی اور کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ شیخ تسبیحی زادہ سے نحو صرف اور دیگر علوم عربیہ کو حاصل کیا پھر شیخ محمد راشد عاشق کوتلو آفندی کی خدمت میں رہ کر ان سے قرأت اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں شیخ محمود آفندی نے شیخ دورسون فوزی آفندی (مدرس مدرسہ سلیمانیہ)، سے دینیات، تفسیر، حدیث، فقہ اور اس کے مآخذ، علم کلام اور بلاغت اور دیگر قانونی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ مذکورہ اساتذہ سے انہوں نے علوم عقلیہ و نقلیہ میں اجازت حاصل کی اس وقت وہ 16 سال کی عمر میں تھے۔ شخ محمود آفندی نے روحانی سلسلہ نقشبندیہ کمشنماونیہ کی اجازت اپنے شیخ احمد آفندی مابسیونی سے حاصل کی۔

شیخ محمود آفندی نے لوگوں کی نماز کی امامت کی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں طلبا کو پڑھایا۔ انہوں نے سال میں 3 ہفتے ترکی کے اطراف کے دعوتی و تبلیغی سفر کے لیے وقف کر رکھے تھے۔ انہوں نے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے دعوتی اور تعلیمی دورے کیے، پھر 1954 میں استنبول میں اسماعیل آغا مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ 1996 میں ریٹائر ہونے تک وہیں رہے اور وہ استنبول میں درس و تبلیغ کرتے رہے اور بہت سے طلبا اور مسترشدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد خود آپ کی طرف کشاں کشاں چلی آتی تھی۔ نتیجتاً ایک عظیم فکری و عملی منہج قائم کرنے میں وہ کامیاب رہے، جس کی بنیاد دعوت الی اللہ، احیائے سنت اور ریاستی حکام سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی حق کی طرف رہنمائی تھی، انہوں نے ایسا اسلوب پیش کیا جس میں حق اور باطل میں واضح فرق قائم ہو جائے۔

ایک ایسے وقت میں جب عربی حروف میں پڑھنے لکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے اور 40 سے 50 سال کا عرصہ ایسا بھی گزرا کہ قرآن پڑھنے والے کم ہی نظر آتے تھے، عربی میں اذان تک پر پابندی تھی لیکن شیخ کی کوششوں سے مختصر عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن کریم تیار ہوئے۔ دسیوں ہزار طلبا و طالبات کو اسلامی نہج پر تربیت دی گئی اور شیخ پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے۔

جدید ترکی اور معاشرہ کی اصلاح میں حضرت آفندی کا بڑا اہم رول رہا ہے، ایسے وقت میں جبکہ ترکی دہریت کی دہلیز پار کر چکا تھا، اسلامی شعائر کو پامال کیا جا رہا تھا، تب اس مردِ مصلح نے توحید و اصلاح کا آوازہ بلند کیا۔ اسی وجہ سے انہیں بعض اہل علم ترکی کا مجدد بھی کہتے ہیں۔

اختر جاوید صاحب نے بتایا کہ شیخ محمود آفندی کے ساٹھ لاکھ سے زائد شاگرد اور مریدین اس وقت دنیا بھر میں ان کی تعلیمات کو عام کر کے اسلام کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سمیت حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے بیسیوں وزرا اور اعلیٰ افسران ان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر فروغ اسلام کے لیے کوشاں ہیں۔ معرفت و طریقت کا یہ تابناک سورج زندگی کی 95 بہاریں دیکھنے کے بعد غروب ہو گیا۔

مصنف کے بارے میں