اسحاق ڈار کیخلاف ضمنی ریفرنس، شریک ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس میں نامزد شریک ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی اور کیس کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ملزم نعیم محمود اور منصور رضا عدالت میں پیش ہوئے جبکہ صدر نیشنل بینک سعید احمد عدالت میں پیش نہ ہوئے جن کی دو روز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی گئی۔

 

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دیگر ارکان نے ق لیگ کو خیر آباد کہہ دیا

بعدازاں عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کو آئندہ سماعت پر 10، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

 

واضح رہے کہ نیب کی جانب سے 26 فروری 2017 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد سمیت 3 افراد کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: رواں سال ملک بھر میں گرمی گزشتہ سال سے زیادہ ہو گی، محکمہ موسمیات

سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں