پاکستان کو شک سے دیکھا گیا تو پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا: آصف غفور

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کو شک سے دیکھا گیا تو پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ آرمی چیف نے تعاون اور ساتھ چلنے کے لیے کئی ممالک کا دورہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند روز واقعات کے لحاظ سے بہت اہم تھے، خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو مثبت انداز سے دیکھنا چاہیے، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان کا کردار نہ ہوتا تو خطرہ بھارت تک پہنچ چکا ہوتا، غیر مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان نے دنیا کیلئے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکا واحد سپر پاور نہ ہوتا، ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد پاک امریکا باہمی تعلقات پر فرق پڑا۔

میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے 23 مارچ اور پی ایس ایل بہترین رہا، عوام نے یوم پاکستان کی پریڈ میں بھرپور شرکت کی، کراچی کے عوام نے فائنل میں بھرپور شرکت اور تعاون کیا۔ پاکستان کیلئے سب سے پہلا چیلنج سی پیک ہے۔ سی پیک منصوبے کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں، اس سے پورا خطہ مستفید ہوگا۔ امن و امان کی بہتر صورتحال سے معاشی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف نے بہت سارے ممالک کا دورہ کیا ہے، آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ سیکیورٹی کا معاہدہ ہے۔ سعودی عرب کےعلاوہ خلیجی ممالک سے بھی تربیت اور سیکیورٹی کے معاہدے ہیں۔ پاکستان کا1982 سے سعودی عرب سے فوجی تعاون کا معاہدہ ہے۔ آرمی چیف کے دورہ ایران میں دونوں ممالک کی سرحدی صورتحال پر بات ہوئی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بلوچستان میں جہاں بھی ضرورت ہے آپریشن ردالفساد ہو رہے ہیں۔ فاٹا میں آپریشنز مستحکم ہوگئے ہیں۔ جہاں جہاں معاشی میدان میں کام ہو رہا ہے وہاں فورسز کی تعیناتی کی گئی۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے خوشحال بلوچستان پروگرام شروع کیا، خوشحال بلوچستان منصوبوں کی تکمیل سے بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہوگی۔ پچھلے 8ماہ سے تمام فوکس بلوچستان کی طرف کیا ہوا ہے۔

باجوہ ڈاکٹرائن سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ باجوہ ڈاکٹرائن ملک کی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہے، یہ ہر پاکستانی کی ڈاکٹرائن ہونی چاہیے، باجوہ ڈاکٹرائن کا 18 ویں ترمیم، عدلیہ، این آر او سے کوئی تعلق نہیں، باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ایک ہے اور وہ ہے پرامن پاکستان، کچھ اور مطلب نہ لیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے 2017 میں ایل او سی پر سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں، بھارت کو ایل او سی پر سیز فائر خلاف ورزیاں ختم کرنی چاہییں۔ 2018 کا آغاز ایل او سی پر 2017 سے مختلف نہیں۔