وزیراعظم کی چیف جسٹس سے دو گھنٹے کی ملاقات بلاوجہ نہیں تھی: سراج الحق

اوکاڑہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی چیف جسٹس سے دو گھنٹے کی ملاقات بلاوجہ نہیں تھی، لیکن ہم اس کے نتائج پر نظر رکھیں گے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاست کو ٹھیک کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے غلام سیاست دان ذاتی ترقی تو کرسکتے ہیں ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کرسکتے۔ موجودہ حکومت اس لیے رو دھو رہی ہے کہ وہ ڈلیور کرنے میں ناکام رہی ہے اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی ملک کے لیے رحمت اور قوم کے لیے اللہ کا انعام ہے۔ ہم نے ہر مکتبہ فکر کی بڑی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے۔ اب عوا م بھی فروعی اور معمولی اختلافات سے نکل کر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کے لیے متحد ہوجائیں اور 2018ء کے انتخابات میں ملک پر مسلط مغرب و امریکہ کے ذہنی غلاموں کا ووٹ کی قوت سے بوریا بستر گول کر دیں۔ ظلم و جبرکے نظام سے نجات کے لیے قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظام مصطفی کا قیام ایم ایم اے کی جدوجہد کا اصل مقصد ہے اور ملک میں شریعت کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ ہماری لڑائی فرد واحد یا کسی خاندان سے نہیں ظلم پر مبنی استحصالی نظام سے ہے۔ احتساب کے عمل کو ادھورا چھوڑا گیا تو قوم کے اندر مایوسی اور انتشار پھیلے گا اس لیے ضروری ہے کہ احتساب جاری رکھا جائے اور قومی دولت لوٹنے والوں کا مکمل محاسبہ کرکے ان سے لوٹی گئی پائی پائی وصول کی جائے۔ چیف جسٹس نو منتخب سینیٹرز سے بیان حلفی لیں کہ کس نے ووٹ خریدے اور بیچے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک پر مسلط رہنے والے سیکولر اور لبرل ٹولے نے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کر دیا ہے اور حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ہمارا بچہ بچہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی اسی کرپٹ ٹولے کے تحفے ہیں۔ موجودہ انتخابی نظام دراصل دولت مندوں کا کھیل ہے جس میں کوئی غریب حصہ نہیں لے سکتا۔ ظالم جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے پورے انتخابی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پارٹیاں اور جھنڈے مختلف ہیں مگر لیڈروں کا ٹولہ ایک ہے جو ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ جاگیردار کاشتکاروں، کسانوں اور مزدوروں کا استحصال کر رہا ہے۔