ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی پیکیج پر دستخط کر دیے

ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی پیکیج پر دستخط کر دیے
امریکا میں اب تک 3.3 ملین لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے بیل آؤٹ پیکیج پر دستخط کر دیے۔ امریکا میں کورونا وائرس کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد سینیٹ نے معاشی نقصان کے ازالے کے لیے گزشتہ روز 2 کھرب ڈالرز کے مالیاتی پیکیج کی منظوری دی تھی۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس مالیاتی پیکیج پر وائٹ ہاؤس میں دستخظ کیے جب کہ اس تاریخی موقع پر کسی ڈیموکریکٹ ممبر کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری پر دونوں جماعتوں میں اختلافات کے باوجود امریکا کے لیے ساتھ بیٹھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

بل پر دستخظ کے موقع پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ پیکیج پہلے کسی بھی ریلیف بل سے دوگنا بڑا ہے جو امریکی قوم، ورکرز اور کاروبار کو فوری طور پر ضروری ریلیف فراہم کرے گا جب کہ اس سے بہت جلد غیر معمولی میڈیکل سپلائی بحال ہوگی۔

بل پر دستخط سے قبل صدر ٹرمپ نے اس ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ کو منسوخ کر دیا جو امریکی صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ نجی انڈسٹریز کو قومی دفاع کی مصنوعات بنانے پر مجبور کرے۔

ایکٹ کی منسوخ پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ آرڈر جنرل موٹرز کو مجبور کرے گا کہ وہ اس وقت امریکی حکومت کے لیے انتہائی ضروری میڈیکل وینٹی لیٹرز بنائے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ کی منسوخی سے دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل موٹرز نے فوری طور پر ہمیں 40 ہزار وینٹی لیٹرز کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ اپریل کے آخر تک صرف 6 ہزار وینٹی لیٹرز کا کہہ رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے باعث امریکا میں اس وقت بیروزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جہاں اب تک 3.3 ملین لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ نیویارک شہر وبا کا مرکز بن چکا ہے جہاں 519 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور صرف نیویارک میں کیسز کی تعداد 44 ہزار سے زیادہ ہے۔