یو اے ای میں واٹس ایپ پیغامات بطور ثبوت عدالت میں پیش کیئے جا سکتے ہیں یا نہیں؟

یو اے ای میں واٹس ایپ پیغامات بطور ثبوت عدالت میں پیش کیئے جا سکتے ہیں یا نہیں؟

دبئی: متحدہ عرب امارات کے وفاقی قانون کے آرٹیکل 8 کے مطابق اگر آپ نے کسی شخص کوکسی بھی الیکٹرانک ڈیوائس پر کوئی پیغام بھجوایا ہے تو یہ عدالتی کاروائی میں ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ خلیج ٹائمز کی تفصیلات کے مطابق الیکٹرانک پیغامات اسی صورت میں ہی ثبوت کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں اگر اس پر درج ذیل ضوابط لاگو ہوچکے ہوں :


۔ الیکٹرانک ریکارڈ اس صورت میں بھیجا یا وصول کیا گیا ہو اگر اس میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہ ہوسکے۔  

۔ معلومات اس طرح سے محفوظ ہوں کہ اسے متعلقہ ریفرنس کے لئے استعمال کیا جاسکے۔

تاہم الیکٹرانک ٹرانسیکشن قانون کے آرٹیکل 12 کے مطابق یہ الیکٹرانک پیغام اس صورت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اگر  :

1: کوئی بھی چیز اس الیکڑانک کمیونیکیشن یا الیکٹرونک پیغام کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے سے نہیں روک سکتی ہے اگر یہ :

. سراسر اس لئے ہو کہ یہ پیغام یا کمیونیکیشن الیکٹرانک فارم میں ہے۔

. محض اس وجہ سے کہ یہ اپنی اصل حالت میں موجود نہیں ہے ۔ اگریہ پیغام کسی شخص کے پاس ایک واحد یا بہترین ثبوت ہے جو کہ ایک شخص کے پاس موجود ہے تو اس کا حصول کیا جاسکتا ہے۔