نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا

نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی۔۔۔۔۔۔فوٹو/ ن لیگ آفیشل فیس بُک پیج

لاہور: آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اور رمضان شوگر ملز کیس میں نیب نے شہبازشریف کی حاضری سے معافی کی درخواست مسترد کرنے اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کر دی جب کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ دوبارہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔


لاہور کی احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے عدالت میں حاضری لگائی جس کے بعد جانے کی اجازت ملنے پر وہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔

دورانِ سماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 11 جون کو شہبازشریف وطن واپس لوٹیں گے جبکہ نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی عدالت سے حاضری معافی سے متعلق احتساب عدالت میں جواب جمع کروا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے تمام میڈیکل ٹیسٹ پاکستان میں ہو سکتے ہیں اور ان کا علاج بھی پاکستان میں ممکن ہے۔

نیب نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ شہباز شریف کھلے عام لندن کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔ ادھر علاج کا بہانہ بنا کر حاضری معافی کی درخواستیں دی جا رہی ہیں۔ عدالت فوری شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کرے اور ان کے ورانٹ گرفتاری جاری کرے۔

دوسری جانب نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے اپیل پر اعتراضات ختم کر کے اسے دوبارہ سپریم کورٹ میں دائر کر دیا۔

نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر اسے بحال کرنے کی استدعا کی تھی تاہم رجسٹرار آفس نے نیب اپیل پر اعتراضات لگا کر نیب اپیل واپس کر دی تھی۔

نیب نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب کی اپیل پر متعلقہ فریقین کو پارٹی نہ بنانےکا اعتراض لگایا تھا۔