قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی آرڈیننس میں 4 ماہ کی توسیع کی قرارداد منظور، اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی آرڈیننس میں 4 ماہ کی توسیع کی قرارداد منظور، اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس میں 4 ماہ کی توسیع کی قرار داد پیش کر دی۔ 

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوتے ہی رکن اسمبلی شیخ فیاض نے کورم کی نشاندہی کردی جس کے سبب اجلاس کچھ دیر تک ملتوی رہا بعد میں کورم پورا ہونے پر کاروائی شروع ہوئی۔ 

لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو دو ماہ سے بحال نہیں کیا پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا، اداوں کو بحال کیا جائے ورنہ وزیر اعلیٰ پنجاب کیخلاف خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کارروائی کرسکتی ہے۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس میں 4 ماہ کی توسیع کی قرارداد پیش کی جسے منظور کر لیا گیا تاہم اس پر اپوزیشن کی جانب سے خاصا شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔ 

اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن کھیل داس کوہستانی ، سکندر راہی پوٹو اور ڈاکٹر مہیش ملانی نے لاکھڑا ہاؤس اور کوٹری پاور ہاؤس جام شورو کے ملازمین کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈلہرائے اور احتجاج کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے دوسری بار کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردی مگر اس کے باوجود کارروائی جاری رکھی گئی۔ 

جاوید عباسی بولے سپیکر صاحب آپ نے چھ بار ایسا کیا تاریخ میں کبھی کسی سپیکر نے ایسا نہیں کیا جس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کورم پوائنٹ آؤٹ نہیں ہوا تھا رکن نے نکتہ اعتراض پر بات کی تو آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد منظور ہونے کے بعد سپیکر نے کورم کی نشاندہی کے حوالے سے گنتی کی ہدایت کی اور کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔