لانگ مارچ کے نتائج و اثرات

لانگ مارچ کے نتائج و اثرات

لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی پر تبصرہ کرنے یا نتائج و اثرات کا جائزہ لینے سے قبل کرنے والی اہم بات یہ ہے کہ مقتدر اِداروں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے وہ سیاست میں مداخلت کے بجائے غیر جانبدار رہیں گے علاوہ ازیں مظاہرہ ،دھرنا یا جلسہ و جلوس تمام سیا سی جماعتوں سمیت ہر شہری کا جمہوری حق ہے اِس لیے کسی کو آزادی اظہار کے اِس حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا مگر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے اور حکومت سے بزور استعفیٰ طلب کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی پھر بھی کوئی ایسا کرتا ہے تو حکومت جو چاہے اُسے مناسب سبق دے سکتی ہے نوازشریف حکومت میں عمران خان نے 126دن دھرنا دیا اسی طرح عمران خان حکومت کے خلاف اکتوبر 2019 کے دوران مولانا فضل الرحمٰن اور پھر تحریک لبیک نے اکتوبر 2021میں لانگ مارچ کیا لیکن خوف وہراس اور بے یقینی پھیلانے کے باوجود حکومتی تبدیلی کے اہداف حاصل نہ کر سکے ہر لانگ مارچ اور دھرنے کی وجوہات الگ ہو سکتی ہیں لیکن ایک بات مشترک ہے کہ سبھی اپنی عوامی طاقت سے اقتدار چھیننے آئے لیکن نئے حالات میںاب اسلام آباد پر چڑھائی سے حکومتیں رخصت کرنے کا امکان بالکل ہی معدوم ہو چکاہے۔

 نواز شریف اور عمران خان کے دورِ حکومت میںہر لانگ مارچ اور دھرنے سے ریاستی کمزوری کا تاثر اُجاگر ہوا مگر حالیہ لانگ مارچ سے قائم اُس تاثر کی یکسر نفی ہوئی ہے بلکہ ریاست سب سے طاقتور ہے قانون نافذ کرنے والے اِداروں نے بپھرے ہجوم کو اِس طاقت کا ثبوت دیا ہے اب اِسے کو ئی چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی قراردے یا آزادی اظہارکی نفی کہے ریاست نے اپنی رٹ منواکردکھائی ہے جس سے عالمی سطح پر کمزور ریاستی رٹ کا آموختہ پڑھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی کیونکہ عالمی طاقتیں اکثر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے خدشات و اندیشوں کا ظہار کرتی رہتی ہیں کہ کوئی بھی گروہ اُٹھ کر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پرنہ صرف قبضہ کر سکتاہے بلکہ دنیا کو بلیک میل بھی کر سکتا ہے حالیہ لانگ مارچ روکنے کے لیے اختیا رکیے گئے حربے جائزہیں یا ناجائز ،اِس کی تفصیل میں جائے بغیر اختصار سے بات کریں تو ریاستی اِداروں نے ثابت کر دیا ہے کہ اُن میں اتنی استعداد ہے کہ وہ کسی بھی اندرونی گروہ یا قوت کو کچلنے پر قادر ہیں یہ ایک بہت اچھا پیغام ہے جس سے عالمی برادری کا پاکستا ن کے جوہری ہتھیاروں کے متعلق قائم کیے غیر محفوظ ہونے کے تاثرکو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

نتائج و اثرات کا جائزہ لیں تو بظاہر جو یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ بُری طرح ناکام ہو گیا ہے ایسی کوئی بات نہیں بلکہ یہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان والی بات ہے  اقتدار کی تبدیلی کامقصد بڑی حد تک پہلے ہی حاصل ہو چکا ہے لیکن حکمران اِس طرح اقتدار چھوڑنا چاہتے ہیں کہ کوئی یہ نہ کہے کہ مسائل حل کرنے کی اُن میں صلاحیت ہی نہیں اور اُنھیں حریف سیاسی قوت نے زبردستی اقتدار سے بے دخل کیا ہے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں عوام بدظن ہو سکتے ہیں عمران خان نے جلدبازی میں مارچ بھی اسی لیے شروع کیا تاکہ حکومت بدلنے کا کریڈٹ لیکر عوام کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں مگر رخصتی کے لیے اِداروں سے فیس سیونگ چاہنے والے اب جانے کی جلدی میں نہیں اور اِداروں کے سوا تبدیلی کا کسی کو کریڈٹ لینے سے روکنے کا تہیہ کر چکے ہیں حال ہی میں خورشید شاہ نے بھی کہا کہ کسی اور کو کسی نے حکومت دینی ہے تو دے لیں ہم جانے کو تیار ہیں لیکن وہ بھی عمران خان کو دوبارہ اقتدار ملتا نہیں دیکھنا چاہتے اسی وجہ سے پہلے سے حاصل شدہ نتیجہ بھی جون کے آغاز تک ملتوی ہو گیا ہے۔

عمران خان کا اولیں مطالبہ فوری عام انتخابات ہیں اِس مطالبے کی طرف عملی طور پر پیش رفت شروع ہو چکی ہے ٹیکنو کریٹ حکومت کے لیے سابق وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا نام گردش کر رہا ہے انتخابی اصلاحات ای وی ایم اوراوورسیز ووٹ کا خاتمہ کردیا گیا ہے نیب کے اختیارات بھی محدود کیے جاچکے خواجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بناکر الیکشن کمیشن  کے دونوں ممبران نامزد کر دیے گئے اب چیئرمین نیب کے عہدے پر فواد حسن فواد ،قمرالزمان اور بشیر میمن جیسے گھر کے فردکو لانے پر کام جاری ہے عجلت میں ہونے والی انتخابی ترامیم اور نامزدگیوں کی بناپر اِس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ حکمران اتحاد عوام کے پاس جانے کو آمادہ و تیارہے مگر یہ آمادگی اور تیاری لانگ مارچ سے خوف کا نتیجہ نہیں بڑی وجہ ملک کی خراب معاشی حالت ہے خرابی اِس حد تک پہنچ گئی ہے کہ آئی ایم ایف نے قرض کی مزید قسط جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے تبھی حکومت نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کافیصلہ کیا حالانکہ قبل ازیں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے سے انکاری تھے اور مجبوری کی صورت میں اِداروں پر ساتھ دینے کی شرط عائد کررکھی تھی لیکن لانگ مارچ کو بزور طاقت کچلنے سے حکومت کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے میڈیا کی طرف سے حکومت پر تنقید کے بجائے مہنگائی پر حوصلہ افزائی کا تاثر ہے حالانکہ ڈیڑھ ماہ کی حکومت میں تین بار بجلی کی قیمت بڑھائی جا چکی اب اچانک پیٹرول کی قیمت میں تیس روپے فی لیٹر اضافہ سے ملک میں مہنگائی کاطوفان آجائے گا خورنی اشیا کے علاوہ تعمیراتی سامان جیسے سیمنٹ ،سریا وغیرہ کے نرخ بڑھ جائیں گے مزید خوفناک خبر یہ ہے کہ اگلے چند دنوں میں وقفے وقفے سے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کی خبریںہیں جس سے ممکن ہے حکمران تو پُراعتماد رہیں لیکن عوامی اعتماد رخصت ہو جائے گاجس کا خمیازہ عام انتخابات میں حکمران اتحاد کو بھگتناپڑے گا۔

تحریک ِ انصاف کے بارے عمومی خیال یہ ہے کہ اِس کے کارکن مذہبی جماعتوں کی طرح سخت جان نہیں بلکہ پیزابرگر قسم کے نازک مزاج ہیں لیکن پچیس مئی کو پیش آنے والے واقعات نے ایسا سوچنے والوں کوپہلی بار اپنے خیالات پر نظر ثانی کرنے پرمجبور کر دیاہے اگر حکومتی اِداروں نے سفاکی برو بریت کا مظاہرہ کیا ہے تو کارکنوں نے بھی سرنڈر کرنے یا فرار ہونے کے بجائے ٹھیک ٹھاک ثابت قدمی دکھاتے ہوئے مقابلہ کیا ہے جس پر اب شاید ہی کوئی اِس جماعت کو آسان ہدف سمجھے عمر رسیدہ اور بیماریاسمین راشد جیسی خاتون تک نے کمزوری نہیں دکھائی نہ ہی پولیس تشددسے خوفزدہ  ہوئیںعمر ایوب خان ،حماد اظہراور زبیر نیازی جیسے نازک اندام بھی تشدد کے باوجود نہیں لڑکھڑائے اور ثابت قدم رہے حالیہ لانگ مارچ سے پی ٹی آئی ہجوم کے بجائے جماعت بنتی نظر آئی ہے اِس لیے آئندہ اِسے آسان یا کمزور ہدف سمجھنے کی کبھی کوئی غلطی نہیں کرے گا۔

شہباز شریف عام انتخابات کی طرف جانے کو ذہنی طورپر تیار ہیں اسی لیے فائدہ دینے والے کام سرعت سے کیے جارہے ہیں خراب حالات کے باوجود عمران خان کا فوری عام انتخابات کا مطالبہ تسلیم کرنے کے بجائے چاہتے ہیں کہ کوئی اُنھیں اقتدار سے بے دخل کر دے تاکہ جب عوام کے پاس جائیں تومظلومیت اور ہمدردی کے ووٹ لے سکیں لانگ مارچ کے شرکا سے بہت زیادہ سختی کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کہیں اگر مداخلت کی کہیںسوچ پنپ رہی ہے تو انھیںجواز فراہم کیا جائے پولیس نے تحریک انصاف کے رہنمائوں کے ساتھ کارکنوں کی جی بھر کر دھلائی کی لیکن کسی طرف سے کوئی سرگرمی نہ ہوئی جس پر حکمران اتحاد کافی حیران ہے حالیہ لانگ مارچ سے اِداروں کا غیر جانبداری کا بیانیہ درست ثابت ہوا ہے لیکن ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ن لیگ ،پی پی اور جمعیت علمائے اسلام کے بعد تحریکِ انصاف بھی مقتدرہ سے بدظن ہو چکی ہے قوم پرست پہلے ہی ناقدہیں جس سے ممکن ہے اِدارے اپنی حدود وقیود کے تو مقید ہو جائیں لیکن عوامی پذیرائی سے محرومی اُن کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں ہو گی ۔

مصنف کے بارے میں