24سال قبل جب چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلا … !

24سال قبل جب چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلا … !

آج سے 24سال قبل مئی 1998ء کے دن بھی کیا عجیب دن تھے کہ پوری قوم ایک طرح کے جذبوں اور ولولوں سے سر شار تھی کہ ہم نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا ہر صورت میں جواب دینا ہے اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربان دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اسی جوش و جذبے کے عالم میں 28مئی 1998کا دن آن پہنچا کہ جسے ہماری قومی تاریخ میں ایک یادگار دن کا درجہ ملنے والا تھا کہ اُس دن کی سہ پہر 3بج کر 13منٹ پر چاغی کی پہاڑیوں میں 7کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے سامنے نہ صرف باضابطہ طور پر اپنی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت مہیا کر دیا بلکہ اپنے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کو بھی یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ پاکستان اس کے مقابلے میں جہاں بڑھ کر ایٹمی صلاحیت کا مالک ہے وہاں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں برتر ایٹمی صلاحیت بھی حاصل ہے۔ 

یہ درست ہے کہ بھارت 13 مئی 1998ء کو پوکھران (راجستھان) میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا ۔ اُس کے تنگ نظر رہنما اور حکومتی عہدیدار پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں اُنگلیاں اُٹھ رہی تھیں ۔ وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت پر اندرونی طور پر بڑا دبائو تھا کہ وہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں۔ عالمی رائے عامہ ، جاپان سمیت G-8 ممالک ، یورپی یونین اور امریکہ برطانیہ وغیرہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنے کے سخت مخالف تھے۔ پاکستان کو دھماکوں سے روکنے کے لیے ترغیب، تحریص اور دبائو کے سبھی حربے آزمائے جا رہے تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن بذاتِ خود وزیرِ اعظم نواز شریف پر دھماکے نہ کرنے کے لیے دبائو ڈال رہا تھا۔ بل کلنٹن کی طرف سے دھماکے نہ کرنے کی صورت میں اربوں ڈالر امداد کی پیشکش ، بصورتِ دیگر اقتصادی پابندیاں لگانے کے ہر دو آپشن موجود تھے۔ غرضیکہ یہ ایک بڑا نازک اور مشکل وقت تھا۔ 

وزیرِ اعظم نواز شریف نے دھماکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا ۔ میاں صاحب نے مشورے کے لیے اخبارات کے مدیران اور سینئر صحافیوں کا اجلاس بھی بلایا۔ اس موقع پر نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مرحوم مجید نظامی نے میاں نواز شریف کے استفسار پر اُنھیں جواب دیا کہ میاں صاحب ایٹمی دھماکے کریں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ اور پھر 28 مئی 1998ء کا دن آن پہنچا جب سہ پہر کے 3:13 منٹ پر چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلنا شروع ہوا۔ پاکستان سات کامیاب ایٹمی دھماکے کر چکا تھا۔زیرِ زمین دھماکوں کے نتیجے میں بے پناہ توانائی اور حرارت کے اخراج سے پہاڑیوں کا رنگ پہلے کالا، پھر سُرخی مائل اور آخر میں سفید ہو گیا۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت ساری دُنیا کے سامنے آ چکا تھا۔ 

 حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام پاکستانیوں کے لیے ہمیشہ سے ایک رومانس کی حیثیت اختیار کیے رہا ہے اور وہ اس کے لیے اپنا تن ، من ، دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے ہیں۔  اس کے لیے انھیں بے پناہ مصائب ، مشکلات ، رکاوٹوں اور دھمکیوں کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا رہا ہے بلکہ اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اس کے لیے سینٹری فیوج مشینوں کے ذریعے ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال کے قابل یورینئم کی افزودگی حاصل کرنے کے لئے کئی برس تک لگاتار اور پیہم کوششیں اور جدوجہد بھی کرنا پڑی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں محسنِ 

پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زیرِ سرکردگی ہمارے سائنسدانوں اور ایٹمی ماہرین کی کوششیں بار آور ہوئیں اور 1984کے وسط تک ہم مطلوبہ معیار تک یورینئم کی افزودگی حاصل کرنے اور اسے ایٹم بم بنانے میں استعمال کرنے کے قابل ہو گئے۔ دُنیا کو ہماری ان کوششوں اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی لگن کا پورا علم تھا۔ سچی بات ہے ہم مانگ کر ، چھین کر ، چرا کر ، خرید کر ہر صورت میں ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر اور ہائی ٹیکنالوجی کے حامل پرزہ جات اور دیگر سازوسامان مہیا کرنے کے مشن پر گامزن تھے۔ ہمیں اس مشن پر آگے بڑھنے سے کوئی دھمکی ، کوئی ترغیب  اور کوئی تحریص کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ بلاشبہ اس میں ہمارے ایٹمی سائنسدانوں سے لے کر ہماری سول اور عسکری قومی قیادت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز افراد سے لے کر پوری قوم کی ہمت، جرأت ، دلیری، عزم اور ایک ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا جنون اور یقین سب کچھ شامل تھا۔ 

یہ درست ہے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے مشن پر گامزن تھا تو اسے قدم قدم پر رکاوٹوں، مخالفتوں اور دُشمنوں کی سازشوں کا سامنا تھا۔ ہر طرف خطرات ہی خطرات تھے اب وہ جوہری اثاثوں کا مالک ہے تو یہ خطرات بڑھے ہیں کم نہیں ہوئے۔ دُنیا کا ہر اُوباش اور بدمعاش پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے ۔ آئے روز اس طرح کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اور ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں ہیں اور انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس سے دُنیا کے امن کو زبردست خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ امریکہ اور اُس کے اتحادی ان اثاثوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔لیکن امریکہ ہو یا کوئی اور دُنیا کی طاقت انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ پاکستان کے یہ ایٹمی اثاثے پاکستانیوں کے لیے زندگی اورموت کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بات طے ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اثاثے جو عالمِ اسلام کا ناز اور فخر ہیں ان پر اللہ اور اُس کے حبیبِ کبریا ؐکا سایہ ہے اور ان شاء اللہ یہ ہمیشہ محفوظ رہیں گے اور کہیں اگر کوئی مشکل وقت آیا پاکستان کی سالمیت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان کی یہ جوہری صلاحیت اُس کے تحفظ اور اُس کے دفاع کی بہت بڑی ضمانت بن کر سامنے آئے گی۔ 

آخر میں بطور جملہ معترضہ ہی سہی لیکن اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے متعلقہ ذمہ دار شخصیات ، اداروں ، حکومتی زعما اور مسلح افواج کے سربراہان نے اسے اپنے ایمان اور یقین کا حصہ سمجھ کر پروان چڑھایا اور اس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اکثر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ایک جمہوری وزیرِ اعظم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور دوسرے جمہوری وزیرِ اعظم نے دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ یہ درست ہے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت 1975-76 ء میں کہوٹہ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پُر جوش طریقے سے کام شروع ہوا۔ یہ بھی درست ہے کہ مئی 1998ء میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں ایٹمی دھماکے ہوئے لیکن درمیان بھی بائیس ، تیئس سال کیا ہوتا رہا ۔بھٹو کی حکومت تو جولائی 1977ء میں ختم ہو گئی تھی ۔ ساری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے 1984ء تک ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور اس کے کولڈ تجربات بھی کر لیے تھے ۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا۔ جنرل ضیاء الحق ایک فوجی آمر اور غاصب سہی لیکن ماننا پڑے گا کہ اُس نے بڑی ہمت، جرات، دلیری اور ثابت قدمی کے ساتھ ہر دبائو کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ پھر غلام اسحاق خان جو ملک کے صدر رہے اُنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی دل و جان سے حفاظت کی ۔ آرمی سربراہان جنرل مرزا اسلم بیگ، جنرل عبدالوحید کاکڑ و دیگر سمیت آئی ایس آئی کے سربراہان جن میں جنرل حمید گل کا نام سرفہرست ہے وغیرہ سبھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اپنے اپنے ادوار میں پاسبان رہے اور قوم ان پر بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ 

یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ چند دن قبل میاں شہباز شریف کی حکومت نے اس سال یومِ تکبیر کے حوالے سے 10روزہ تقریبات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اخبارات میں آدھے صفحے کے اشتہارات بھی چھپے جن میں حکومت کی طرف سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ 24سال قبل پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تھا اب معاشی قوت بنائیں گے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یومِ تکبیر کے حوالے سے حکومتی سطح پر کسی خصوصی تقریب کے انعقاد کی خبر سامنے نہیں آئی اور نہ ہی پاکستان کو معاشی قوت بنانے کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آ سکی ہے اُلٹا جناب عمران خان کے بربادی مارچ نے پاکستان کو ایک ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا کہ ہر طرف افراتفری ، فتنہ فساد، بد امنی ، بے اطمینانی اور غیر یقینی صورتحال کا منظر پھیلا ہوا ہے۔ معاشی استحکام اور بہتری کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ اللہ ہی ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں اس بدتر صورتحال سے نجات دے۔

مصنف کے بارے میں