سعودی عرب میں پندرہ سال میں دس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے

سعودی عرب میں پندرہ سال میں دس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے

ریاض :سعودی عرب کے قومیانے کے مجوزہ پروگرام کے تحت آیندہ پندرہ سال میں سعودی شہریوں کے لیے دس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سعودی شوریٰ کونسل میں اسی ہفتے اس مجوزہ پروگرام پر رائے شماری ہورہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کونسل کے رکن عبدالرحمان الراشد نے بتایا کہ ملازمتوں کو قومیانے کے مجوزہ پروگرام کے تحت ایک اعلیٰ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

اس کا مقصد ایسی ہ±نرمند اور تعلیم یافتہ سعودی افرادی قوت کو تیار کرنا ہوگا جو پیداوار کے لیے پہیے کا کام دے سکے اور اس سے غیرملکی درآمدات میں کمی آئے اور قومی پیداوار میں اضافہ ہو۔انھوں نے کہا کہ مقامی پیداوار سے سعودی مارکیٹ میں مسابقت میں اضافہ ہوگا اور قومی معیشت مضبوط ہوگی۔ملک کے تیل کی آمدن پر انحصار میں کمی واقع ہوئی ہے۔2009ءمیں یہ شرح 13 فی صد تھی اور 2013ءمیں یہ کم ہوکر 8 فی صد رہ گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ سنہ 2011ءمیں درآمدی اشیاءکا بجٹ 452439 ارب سعودی ریال تک پہنچ گیا تھا۔

مقامی افرادی قوت اور خام مواد کو استعمال کیا جاسکے گا اور اس سے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔انھوں نے یہ بھی پیشین گوئی کی کہ قومی پیداوار سے قیمتوں میں کمی واقع ہوگی کیونکہ ملکی مصنوعات درآمدی اشیاءسے سستی ہوں گی۔