یہ پاکستانیو کی آواز ہے،یہ نہیں رکنے کی...

یہ پاکستانیو کی آواز ہے،یہ نہیں رکنے کی...

15 مئی دو ہزار پندرہ کی شام پاکستانی صحافت اور پاکستانی عوام کے لئیے ایک نئی زندگی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس دن پاکستانی میڈیا میں ایک ایسے چینل کا قیام عمل میں آیا جس نے نہ صرف صحافتی اقدار کی پاسداری کو ممکن بنایا بلکہ پاکستانی عوام کو عوام کے رتبے سے ہٹا کر قوم کے مقام پہ فائز کر کے پوری دنیا کو یہ باور کروایا کہ پاکستانی بحیثیت قوم اپنی نظریاتی اور ثقافتی سرحدوں کی پہچان کروانا اور حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

 پروفیسرڈاکٹرچوہدری عبدالرحمان جو اپنی ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں ،نے بنیادی طور نیو ٹی وی کا آغاز اس لئیے کیا کہ سنسنی،چیخ چنگھاڑ اور عوامی مسائل سے پہلو تہی کرتا میڈیا صحیح معنوں میں ترجمانی نہیں کر رہا تھا۔ پاکستانی قوم کی نہ صرف یہ مسائل بلکہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ اور مسئلہ کشمیریوں کو اقوام عالم کے سامنے کیمرے کی آنکھ سے صحیح انداز سے پیش بھی کیا اوربھارتی میڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ سبق دیا کہ ہاں نیو نیوز تمہارے تمام پروپگینڈہ کو بے نقاب کرنا جانتا ہے۔

ذرا آگے بڑھتے ہیں تو نیو ٹی وی کے آغاز سے پاکستانی قوم نے اس ادارے کو اپنی آواز سمجھ کر اسے دل و جان سے قبول کیا اور اسے پذیرائی ملی۔ایک جانب تو یہ صورتحال دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب چیرمین پیمرا ابصار عالم  7دن کے لئیے نیو نیوز کو اپنی نشریات نشر کرنے سے انکار کر دیا اور بنیاد بنایا ایک پروگرام کو اور الزام یہ دھرا کہ اس پروگرام میں توہین عدالت ہوئی ہے ۔

شاید ابصار عالم صاحب اپنا غصہ نکالنے سے پہلے یہ بھول گئے تھے کہ نیو نیوز کی باگ ڈور ان ہاتھوں میں ہے جنہوں نے اپنے صحافتی سفر کو ہمیشہ بے داغ رکھا ہے ۔

ڈائریکٹر نیوز محمد عثمان  ہوں یا ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیو زنصراللہ ملک ہوں ان کی موجودگی میں ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستان ،پاکستانی قوم یا کسی بھی پاکستانی ادارے کی توہین کا ایک رتی برابر بھی کام ہو سکے۔یہ وہ لوگ ہیں جن سے ابصار عالم صاحب بھی بخوبی واقف ہیں اور ان کے کام اور نام سے بھی ۔

جس پروگرام کو بنیاد بنا کر یہ پابندی لگائی گئی ہے اس کو اگر وہ خود بھی دیکھ لیتے تو شاید اس کی نوبت نہ آتی لیکن وہ کیا ہے کہ "ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق یہ پابندی بھی عمل میں آگئی ہے ۔

ایسے میں پاکستانیو کی آواز کو دبانے کی اس کوشش کے خلاف پاکستانیو نے ہی پاکستان کے گلی کوچے میں آواز بلند کرنا شروع کر دی ہے۔اور یہ تاثر کھل کر سامنے آیا کہ چیئرمین پیمرا جسے صحافتی اقدار کو آزادی صحافت کا سب سے بڑا نمائندہ ہونا چاہئیے تھا اس کے موجودہ عمل سے تو گنگا الٹی بہہ نکلی ہے ۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں پہلے ہی صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جاتا رہے ۔صحافی جو اپنی جان پہ کھیل کر خبر تک عوام کی رسائی ممکن بناتا ہے۔اور وہی صحافی جب ٹارگٹ ہوتا ہے تو اس کی سرپرستی کہیں سے بھی نہیں ہوتی اور ایسی صورتحال میں جب حکومتی ادارے ہی ایسے با ضمیر لوگوں اور اداروں پہ پابندی لگانا شروع کر دے گئی تو پھر منصف اور ظالم میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

یہ ممکن نہیں کہ پاکستانیو کی آواز کو دبایا جا سکے۔چیئرمین نئی بات میڈیا نیٹ ورک  پروفیسرڈاکٹرچوہدری عبدالرحمان نے اس مشکل صورتحال میں بھی کارکنان کو صبر اور تحمل کی تلقین کی ہے اور اسی عدالت سے رجوع کرنے کی بات کی ہے جس کے حوالے سے چیئرمین پیمرا نے توہین عدالت کا الزام لگا کر پابندی لگا دی ہے ۔

جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے اور انشاللہ اب کی بار بھی پاکستانیو کی آواز سر خرو ٹھہرے گی

ہم سے دیوانے نہیں ہونے کے گرفتار بھی ۔۔۔لوگ دیوانے ہیں زنجیر لئیے پھرتے ہیں

وقاص عزیز< Blogger

وقاص عزیز نیو کےنیوزاینکر،نوجوان شاعر اور سماجی ورکر ہیں