#StopSilencingNeoTV ٹوئیٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، عوام نے اوچھے حکومتی ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دے دیا

معصوم اور نہتے کشمیریوں کی آواز بننے پر حکومت نے پیمرا کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے معروف ترین چینل اور پاکستانیو کی آواز نیو ٹی وی کی آواز دبانے کا جو منصؤبہ بنایا اس کا شدید ردِ عمل عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ کی صورت میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر دیکھنے میں آیا

لاہور: معصوم اور نہتے کشمیریوں کی آواز بننے پر حکومت نے پیمرا کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے معروف ترین چینل اور پاکستانیو کی آواز نیو ٹی وی کی آواز دبانے کا جو منصؤبہ بنایا اس کا شدید ردِ عمل عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ کی صورت میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر دیکھنے میں آیا جہاں پر کئی معروف اور عوامی شخصیات نے پیمرا کے اس عمل کی شدید مذمت کی۔

آغاز کسی اور سے نہیں سنیٹر اعتزاز احسن سے ہوا جنہوں نے کہا کہ وہ شخص جو کشمیر کے معاملہ پر خاموش رہتا ہے وہ دوسروں کو بھی خاموش کروانے پر بضد ہے:

کشمیر لابی گروپ نے نیو ٹی وی کی نشریات کی بندش پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ نیو ٹی وی وہ واحد چینل ہے جو حقیقت میں کشمیریوں کی آواز ہے اور کشمیریوں کی آزادی کی جنگ کا ساتھی

معروف میڈیا بلاگر فرحان خان ورک نے کہا کہ پیمرا کشمیر کی آواز اٹھانے والے چینل کو تو بند کرنے کا مجاز ہے مگر ایسے چینل کا نہیں جس کا اینکر ٹی وی پر آکر برملا افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے بارے میں طنز کرتا ہے:

ایک صارف نے ایک وفاقی وزیر کے مخصوص انداز میں چئیرمین پیمرا کی غیرت کو للکارتے ہوئے کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے:

ایک صارف نے جمہوری حکومت کا موازنہ آمر پرویز مشرف کے اندازِ حکومت سے کرتے ہوئے کہا کہ:

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ممتاز عالمِ دین اور مفکر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے تو اس جابرانہ دورِ حکومت میں سچ کی آواز بند کیے جانے کی پیشگوئی بہت پہلے ہی کر دی تھی:

ایک صارف نے نیو ٹی وی کی انتظامیہ کو علامہ اقبال کا ایک شعر سنا کر حوصلہ دیا :