مہارشٹرا میں بی جے پی حکومت کا خاتمہ، اودھو ٹھاکرے نئے وزیراعلیٰ ہوں گے

مہارشٹرا میں بی جے پی حکومت کا خاتمہ، اودھو ٹھاکرے نئے وزیراعلیٰ ہوں گے
بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحادیوں نے ساتھ چھوڑ دیا جس کے باعث وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

مہارشٹرا: بھارت کی سب سے امیر ترین اور معاشی حب قرار دی جانے والی ریاست مہاراشٹرا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار کا تین دن کے اندر ہی خاتمہ ہو گیا۔ بی جے پی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) نے ہفتے کے روز مہاراشٹرا میں اپنی حکومت قائم کی تھی اور ڈیویندرا فیڈنوس نے دوبارہ وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا تھا تاہم وہ اسمبلی میں اکثریت قائم رکھنے میں ناکام رہے۔


بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحادیوں نے ساتھ چھوڑ دیا جس کے باعث وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا اور یوں یہ حکومت 3 دن قائم رہی۔

خیال رہے کہ نیشنلسٹ پارٹی کے صدر شردپوار ہیں جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سابق صدر بھی رہے ہیں۔ ان کے بھتیجے اجیت پوار نے پارٹی کی جانب سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا جس سے پارٹی سربراہ نے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، شیوسینا اور انڈین نیشنل کانگریس نے اتحاد کیا اور 288 کے ایوان میں 162 ارکان کے ساتھ اکثریت ثابت کر کے حکومت بنانے کا اعلان کر دیا۔

مہاراشٹرا کی اسمبلی میں بی جے پی 105، شیو سینا 56، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی 54، انڈین نیشنل کانگریس 44، آزاد ارکان 14 اور باقی مقامی جماعتوں نے سیٹیں جیتی ہیں۔ 3 جماعتی اتحاد نے بال ٹھاکرے کے بیٹے اودھو ٹھاکرے کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جن کی تقریب حلف برداری جمعرات کو ہو گی۔ اس تقریب میں کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور دیگر شخصیات کی شرکت کا امکان ہے۔

اودھو ٹھاکرے شیوسینا کے صدر بھی ہیں اور وہ اس منصب تک پہنچنے والے ٹھاکرے خاندان کے پہلے فرد ہیں۔