چین نے ڈرائیور کے بغیر چلنے والا پروٹوٹائپ الیکٹرک ٹریکٹر بنا لیا

China develops driverless prototype electric tractor

بیجنگ:چین کے شعبہ زراعت کے لیے مشینیں بنانے والے ایک ادارے نے ڈرائیور کے بغیر چلنے والا پروٹوٹائپ الیکٹرک ٹریکٹر بنا لیا ہے۔

نیشنل انسی ٹیوٹ آف ایگرو مشینری کے مطابق ڈیزل سے چلنے والا مذکورہ ٹریکٹر”ای ٹی1004ڈبلیو“ 100ہارس پاور کا ہے جس کا ٹرننگ ریڈئیس 3.5 میٹر ہے۔اس ٹریکٹر کو بنانے میں سنگھوا یونیورسٹی اور چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے انجنیئرز نے حصہ لیا۔

ٹریکٹر کو چلنے کے لیے فائیو جی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس ملٹیپل انٹیلیجنٹ فنکشن کے حامل سیلف ڈرائیونگ ٹریکٹر کو ریمورٹ سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب الیکٹرک گاڑیاں بنانے والے امریکی ادارے ٹیسلا نے چین کے شہر شنگھائی میں الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے والے سپر چارجر بنانے کی فیکٹری لگانے کا اعلان کیا ہے۔ٹیسلا کے مطابق شنگھائی میں ان کی سپر چارجر مینوفیکچرنگ فیکٹری آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں پیداوار شروع کر دے گی۔

اس فیکٹری کی تیاری کے لیے ٹیسلا6.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جہاں ہر سال 10 ہزار’ وی تھری ‘ماڈل سپر چارجر تیار ہوں گے۔اس وقت چین میں استعمال ہونے والے تمام ٹیسلا کےسپر چارجر ہیں جو امریکہ سے درآمد کیے ہوئے ہیں،ٹیسلا سپر چارجر کی رینج پندرہ منٹ چارج ہونے کے بعد ڈھائی سو کلو میٹرہے۔

ٹیسلا چین کے اٹھارہ شہروں میں اکتوبر تک 30سپر چارجنگ سٹیشنز تعمیر کر چکا ہے جن میں 219 سپر چارجز نصب ہے۔رواں سال کے آخر تک چین بھر میں ٹیسلا کے چارجنگ سٹیشنز کی تعداد بڑھ کر 650 ہو جائے گی جن میں 5,000 سے زیادہ چارجر ہوں گے۔