وزیراعظم عمران خان کا پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح

 وزیراعظم عمران خان کا پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح کردیا۔


تفصیلات کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سیزنل پورٹل پاکستان کے نوجوانوں نے تیار کیا، اس نظام سے سزا اور جزا میں آسانی ہوگی، جو نظام لایا جارہا ہے وہ ذہن بدلنے والا ہے، پہلی مرتبہ سرکاری افسران، وزارتیں اور سیاستدان سب قابل احتساب ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب لوگ کہتے ہیں نیا پاکستان کیا ہوگا، یہ ہے نیا پاکستان، پرانے پاکستان میں غلامانہ مائنڈ سیٹ تھا جس میں باہر سے لوگ حکمرانی کرنے آئے تھے، عوام اور حکمرانوں کا مختلف تعلق تھا، لوگ سرکاری دفاتر میں دھکے کھاتے تھے، اگر پیسہ طاقت ہے تو ناجائز کام بھی ہوجاتے تھے اور کمزوروں کے جائز کام نہیں ہوتے تھے لیکن اب جہاں بھی پاکستانی بیٹھا ہے، اس کے پاس آواز ہے، ہمیں ایک خاص مدت میں انہیں جواب دینا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ رشوت کی شکایات ہوتی ہیں، اب ہمیں کہیں بھی بیٹھ کر پتا چل جائے گاکہ کہاں کیا ہورہا ہے؟ کون سے وزارت کام کررہی ہے، یہ ای گورننس سسٹم ہے، ہم عوامی رائے سے پالیسی بنائیں گے، پہلی مرتبہ اب کمزور طبقے کے پاس آواز ہے، یہ پاکستان کے مستقبل کےلئے بہت اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے قرضوں کا جو پہاڑ بنایا ہے اس میں سے نکلنا ہے تو سرمایہ کاری لانا ہوگی اور یہ جب ہوگا جب سرماریہ کار کے سامنے رکاوٹیں کم ہوتی ہیں، اس نظام کے تحت سرمایہ کار بھی رکاوٹیں حکومت کو بتا سکے گا۔ان کا کہناتھا کہ سعودی عرب سے ملنے والے پیکج پر کوئی شرائط نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے ذریعے ہر ہفتے میں مجھے پتا چلا جائے گاکہ کس خطے اور وزارت سے کیا شکایت آرہی ہے، اس سے مائنڈ سیٹ بدلے گا، حکومت میں جو لوگ بیٹھے ہوں گے انہیں احساس ہوگا کہ ہم عوام کے ٹیکس پر بیٹھے ہیں، یہ ایک تبدیلی ہوگی جو نیا پاکستان بنے گا، یہ تب ہوگا جب لوگ اپنی حکومت کو اون کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم پر قرضوں کا دباو¿ ہے اس میں ہمارا مستقبل یہ ہے کہ گورننس کا وہ لیول لائیں جو اب تک پاکستان میں نہیں آیا، اس وجہ سے سرمایہ کاری آئے، ہمیں علم نہیں کہ پاکستان کتنا بڑا تحفہ ہے، سرمایہ کار دیکھ رہے ہیں کہ ہم انہیں بہتر طرز حکمرانی دے سکتے ہیں، گورننس سسٹم ٹھیک نہ ہونے سے کچھ نہیں کرسکے، اس لیے پہلا چیلنج ہے طرز حکمرانی ٹھیک کرنا ہے،  ہمارا گورننس فیلیر ہے جس وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔