’’ساری کھیڈ ونجا بیٹھے آں‘‘

’’ساری کھیڈ ونجا بیٹھے آں‘‘

مہنگائی، استحصال محکومیت اور عالمی قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبتی ہوئی قوم کو جب کسی جانب سے ریلیف کی امید نہ رہی تو بالآخر قومی کرکٹ ٹیم نے عوام کو ریلیف دے دیا۔ یہ ریلیف عوام کو سستی بجلی پٹرول اور روٹی تو نہیں دے سکتا اور نہ بھوکوں کا پیٹ بھر سکتا ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ کشمیریوں پر مظالم کا غصہ نکالنے کے لیے پاکستانی قوم کی نفسیات انا کی تسکین کے لیے انڈیا کو کرکٹ میں شکست حدیث کشمیر  کا ایک چھوٹا سا متبادل ضرور ہے۔ ویسے بھی انڈیا کی پراپیگنڈا مشینری کی وجہ سے ہماری قومی کرکٹ ایک دہائی سے آئیسولیشن کا شکار ہے۔ ان حالات میں کرکٹ کی جیت تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان اور خاتون اول بشریٰ بی بی سعودی عرب کے دورے پر ہیں کچھ اخبارات  نے اس کو سرکاری دورہ بھی قرار دیا ہے لیکن فارن آفس کے ہینڈ آؤٹ میں لفظ official لکھنے سے گریز کیا گیا ہے البتہ وزیراعظم کو مڈل ایسٹ کانفرنس میں شرکت کی دعوت تھی جو ماحولیات کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے یہ بات بھی سامنے آئی کہ خاتون اول کی بیٹی کی رسم نکاح 12 ربیع الاول کو مسجد نبوی میں منعقد ہوئی جس سے اگلے روز یہ وزٹ شروع ہوتا ہے۔ ویسے تو خاتون اول عام طور پر سرکاری غیر ملکی دوروں پر وزیراعظم کے ساتھ نہیں جاتیں لیکن اس دفعہ شاید یہ سوچا گیا کہ گرین سمٹ میں شرکت کے ساتھ ساتھ فیملی کی نجی تقریب بھی اٹینڈ کرلی جائے یا اس کے برعکس نجی تقریب میں حاضری کی خاطر سوچا گیا کہ گرین سمٹ میں بھی حصہ ڈال دیا جائے۔ ایسا ہی ایک معاملہ صدر فاروق لغاری صاحب کے دور میں ہوا تھا جب امریکہ میں ان کے بیٹے کی convocation کی تقریب میں شرکت کی دعوت کو انہوں نے سرکاری دورے کی شکل دے دی جس پر پاکستان میں اتنا شور ہوا جو آج تک یاد ہے۔ 

اسی اثناء میں تحریک لبیک پاکستان نے اپنے احتجاج اور سڑکیں بلاک کرنے اور اسلام آباد مارچ کا پروگرام ترتیب دے دیا جو اس مخصوص موقع کی مناسبت سے بڑا معنی خیز ہے پھر حکومت نے اس کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کیے جن میں قیدیوں کی رہائی ، مقدمات کی واپسی اور فورتھ شیڈول فہرست سے اخراج جیسے مطالبات مان لیے گئے ہیں البتہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ اسی ہفتے گورنر پنجاب یورپی یونین کے ممالک کا منت ترلا کرنے گئے ہوئے تھے کہ پاکستان کا تجارت میں خصوصی درجہ GSP Status بحال کیا جائے۔ ایک وقت میں صلح اور جنگ میں سے ایک کام ہو سکتا ہے لہٰذا یا تو فرنچ سفیر کو ملک بدر کیا جاسکتا ہے یا GSP سٹیٹس بحال کروایا جا سکتا ہے تا کہ پاکستانی مصنوعات پر ان ممالک میں بھاری ٹیکس نہ لگائے جائیں تاکہ ہماری ایکسپورٹ  میں اضافہ ہو جس سے ہمارا عالمی تجارتی خسارہ کم ہو۔ ڈالر نیچے آئے اور پٹرول کی قیمت میں ریلیف ملے۔ حکمرانی بڑا پیچیدہ کام ہے اس پر ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت کی روس سے عمل اور ردعمل مقدار میں برابر لیکن سمت میں مخالف ہوتے ہیں۔ 

ایک لمحے کے لیے آپ TLP اور GSP کو آپس میں لنک نہ کریں بلکہ انہیں چھوڑ دیں اور بڑے بڑے معاملات سر اٹھارہے ہیں۔ آرمی میں تعیناتیوں کی ایک معمول کی کارروائی کو آج کل غیر ضروری طور پر میڈیا ہائپ (HYPE) بنا دیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی آرمی چیف پیشہ ورانہ ضرورت کے مطابق کرتا ہے مگر یہ وزیراعظم کی منظوری سے ہوتی ہے گویا یہ ایک ڈیل ٹریک پراسیس ہے جس میں دونوں کا متفق ہونا لازمی ہے اس دفعہ یہ معاملہ طول پکڑ گیا تو یہ موضو ع گلی کوچوں کی زینت بنا دیا گیا۔ اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ اسے اتنی تفصیلات سے میڈیا میں نہیں آنا چاہیے تھا دوسرا اس سے سول ملٹری کے دوران اعتماد کی فضا متاثر ہو تی ہے۔ ان حالات میں موجودہ حکومتی پارٹی ایک ایسے ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن کیسے نارمل رکھ سکتی ہے جسے بخوبی پتہ ہے کہ وزیراعظم انہیں اس سیٹ پر بٹھانے کے حق میں نہیں تھے۔ اس سے آنے والے وقت کی سیاست متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی اور کسی سطح پر یہ حکمران پارٹی کے لیے اچھا شگون ثابت نہیں ہو گا۔ حکومت نے ایک نان ایشو کو کھڑا کر کے اپنے دوبارہ منتخب ہونے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ 

اپوزیشن کو جمہوری نظام میں Government in waiting کہا جاتا ہے اس تناظر میں پاکستان مسلم لیگ ن سب سے بڑی پارٹی ہے۔ الیکشن جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں ن لیگ کے اندر قیادت کے معاملے پر شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی سیاست میں واضح فرق ہے وہ دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں اکٹھے جلسوں میں یا عوام میں نہیں جاتے دونوں کا مؤقف بھی یکساں نہیں ہے شہباز شریف مفاہمت کی بات کرتے ہیں مگر مریم نواز کا انداز جارحانہ ہے ۔ پی ڈی ایم میں بھی ن لیگ کے کردار کے لیے شہباز شریف زیادہ موزوں ہیں پھر ان کا پنجاب پر حکمرانی کا جو ٹریک ریکارڈ ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں پرابلم یہ ہے کہ نواز شریف اور مریم اداروں کے ساتھ مفاہمت کے معاملے میں مصلحت پسندی پر یقین نہیں رکھتے یہ بات انہیں پہلے بھی اقتدار سے محروم کر چکی ہے مگر وہ اس مؤقف پر قائم ہیں۔ حکمران پارٹی کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام انہیں لانا چاہتے ہیںیہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے دوسری طرف Electobles حکمران پارٹی کے کیمپ سے نکلنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں انہیں ہوا کے رخ کا پہلے پتہ چل جاتا ہے۔ لاہور میں پرویز ملک کی وفات پر این اے 133 کی خالی نشست پر انتخابی شیڈول جاری ہو چکا ہے جس میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان گھمسان کا رن پڑے گا اس حلقے کا نتیجہ اگلے انتخابات کے لیے کم از کم پنجاب کی سطح پر ایک indicator ثابت ہو گا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔ اس میں ن لیگ نے شائستہ پرویز ملک کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی جمشید اقبال چیمہ کو لا رہی ہے جو پہلے ن لیگ سے ہارے ہوئے ہیں۔ 

حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں اپوزیشن کا اتنا کردار نہیں جتنا مہنگائی اور عوامی مسائل کا ہے یہ اپوزیشن کے لیے ایک مفت کی پروموشن ہے مگر وہ پھر بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ عام انتخابات سے پہلے پنجاب میں لوکل باڈی گورنمنٹ یا بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں اس میں ہی کافی حد تک عوام کے مزاج کا اندازہ ہو جائے گا۔ اگر موجودہ حکومت بلدیاتی حکومت کو چلنے دیتی تو شاید ملک میں اتنی مہنگائی، بد انتظامی اور گندگی نہ ہوتی اور نہ ہی صحت کا بحران پیدا ہوتا جو کہ براہ راست صفائی سے منسلک ہے اس وقت لاہور کے گلی محلوں میں جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہیں وہ خود گواہی دے رہے ہیں کہ یہ بازی کس نے ہاری ہے۔ 

پنجابی کے مشہور شاعر محترم انور مسعود صاحب نے مارشل لاء کے بارے میں ایک پنجابی نظم لکھی تھی مگر آج وہ نظم مارشل لاء حکومت سے زیادہ ہمارے موجودہ نظام پر زیادہ موثر انداز سے فٹ ہوتی ہے کیونکہ پاکستانی قوم نے تیسری سیاسی جماعت کا تجربہ کر کے بھی دیکھ لیا ہے ۔ انور مسعود کی مذکورہ نظم کا عنوان ہے ’’ہن کیہ کریئے‘‘

جی کردا سی ووٹاں پائیے

مارشل لاء توں جاں چھڈائیے

ووٹاں شوٹاں پا بیٹھے آں

ساری کھیڈ ونجا بیٹھے آں

دودھ وچ سرکہ پا بیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کیہ کریئے

جی چاہتا ہے تھا کہ ووٹ کا حق استعمال کر کے مارشل لاء سے چھٹکارا حاصل کریں۔ ووٹ کا حق استعمال کر کے پورا کھیل خراب کر بیٹھے ہیں بلکہ یہ دودھ میں سرکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اب سوچ میں گم ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔