مسلم لیگ ن کا اسمبلیوں سے استعفوں کا حتمی فیصلہ…

مسلم لیگ ن کا اسمبلیوں سے استعفوں کا حتمی فیصلہ…

قارئین بالآخر مسلم لیگ ن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ البتہ سینیٹ میں وہ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ یہ سب کچھ وہ مہنگائی کے خلاف نہیں بلکہ سیاسی و انتخابی ماحول کو گرم کرنے کے لیے ایک چال کے طور پر استعمال کرے گی۔ مسلم لیگی ذرائع استعفوں کے حوالے سے جس آئینی شق کا حوالہ دیتے ہیں وہ مضحکہ خیز لگتی ہے۔ مسلم لیگ یہ استعفے کب دے گی اس کا ذکر کالم کے آخر میں کروں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جے یو آئی اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں مسلم لیگ ن کی اس تجویز سے متفق نہیں۔

قارئین جانتے ہیں کہ پچھلے کچھ عرصہ سے پی ڈی ایم کے پارلیمنٹ سے استعفوں کی رٹ سن کر کان پک گئے تھے۔ سب سے زیادہ یہ راگ عام انتخابات میں مسترد شدہ مولانا فضل الرحمان الاپ رہے تھے لیکن استعفے نہ آنے تھے نہ آئے۔ مسلم لیگ ن نے پی پی پی اور اے این پی کو باہر نکال کر پی ڈی ایم توڑنا گوارا کر لیا لیکن استعفوں کو ہوا نہ لگنے دی۔ اس حوالے سے مسلم لیگیوں سے بات چیت ہوتی رہتی تھی لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا بلکہ وہ اس بات سے متفق تھے کہ استعفوں کی ضد سے اپوزیشن اتحاد کمزور ہوا اور حکومت کو فائدہ۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پارٹی کے اندر بھی استعفوں کے معاملے پر پارٹی تقسیم تھی اور اکثریت کا یہ اصرار تھا کہ شہباز شریف کی بات مانتے ہوئے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم میں واپس لایا جائے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اب تو شاید یہ دونوں جماعتیں بھی پی ڈی ایم میں واپسی میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ اس کی بڑی وجہ مسلم لیگ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم کا سیکرٹری جنرل اور اے این پی کو پی ڈی ایم کا سیکرٹری اطلاعات بنانا چاہتے تھے تا کہ تمام جماعتیں یکسو ہو کر برابری کی سطح پر اتحاد میں کردار 

ادا کریں۔ اس وقت اتحاد کی سربراہی، سیکرٹری جنرل اور ترجمان کا تعلق مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام سے ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف پی ڈی ایم کے عہدیداروں میں توازن چاہتے تھے لیکن لندن اور جاتی امرا سے انکی ایک نہ چلنے دی گئی۔ جس پر وہ بھی مایوس ہو گئے۔ دوسری طرف مسلم لیگ کے مزاحمتی گروپ نے سرعام پیپلز پارٹی کی تجاویز کا مذاق اڑایا بلکہ ایک اجتماع میں تو یہاں تک کہہ دیا گیا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی واپسی کی بھیک مانگ رہی ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔ اتحادی سیاست میں ہر جماعت کو حصہ بقدر جسہ دیا جاتا رہا ہے لیکن پی ڈی ایم میں شروع دن سے عہدوں کی تقسیم سے لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف پہلے سے ہی کچھ طے کر چکے ہیں۔ جس بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی حمایت کا طعنہ دے کر پیپلز پارٹی کو نکال باہر کیا گیا اسی باپ ’’پارٹی‘‘ کا مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دیا لیکن وہاں نواز شریف نہ بولے اور مولانا نے نجانے کس منہ سے باپ پارٹی سے حلالہ کر لیا۔ اس پر پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے جے یو آئی کو نوٹس دینا تو ایک طرف اس کا نوٹس لینا گوارا نہ کیا۔ جس سے لگتا ہے کہ ساری دال ہی کالی ہے۔

کل مسلم لیگ ن کے کچھ دوستو ں سے ایک عشائیے پر ملاقات ہوئی اور انہوں نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ ن نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ان کا دعویٰ تھا کہ یہ استعفے اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے تین سے چار ماہ قبل دیئے جائیں گے جس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آئین کے الیکشن کے متعلق قوانین اور انعقاد کے چیپٹر 2 کی سب کلاز کے مطابق جب قومی اسمبلی کی مدت کو 120 دن رہ جائیں تو اس وقت ضمنی انتخابات نہیں ہو سکتے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ استعفوں کو سیاسی ہتھیار اور ایک طویل الیکشن مہم کے طور پر استعمال کرے گی۔ ان کا کہنا تھا ان سو دنوں میں مسلم لیگ ن اپنے بیانیے کی تشہیر کرے گی اور بھر پور عوامی مہم چلائے گی۔

البتہ اپوزیشن کی جماعتیں اسے مسلم لیگ ن کی سیاسی شعبدہ بازی قرار دے رہی ہیں۔ جبکہ اس تجویز کے حامی مسلم لیگیوں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات سے تین ماہ قبل ان کے کسی ممبر اسمبلی کو استعفیٰ دینے سے اعتراض نہ ہو گا جس سے پارٹی یکسوئی سے عام انتخابات کی تیاری کر سکے گی۔ لیکن اس پر پارٹی کا کوئی سینئر رہنما بات کرنے کو تیار نہیں البتہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تجویز زیر بحث آئی ہے اور ابھی اس کی منظوری دی گئی ہے نہ اس کا وقت آیا ہے۔

قارئین کے لیے اس کلاز کو درج کیا جا رہا ہے۔

(4) When, except by dissolution of the National Assembly or a Provincial Assembly, a general seat in any such Assembly has become vacant not later than one hundred and twenty days before the term of that Assembly is due to expire, an election to fill the seat shall be held within sixty days from the occurrence of the vacancy.

بیرسٹر علی ظفر نے بھی اس سے اتفاق کیا کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے 120 دن کے اندر ضمنی انتخابات نہیں ہو سکتے۔ اسی شق کو مسلم لیگ ن عام انتخابات سے قبل اپنی عوام رابطہ اور الیکشن مہم کے لیے استعال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

قارئین کالم کے بارے میں اپنی رائے وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔