اربوں روپے جیتنے والا پاکستانی معمولی نوکری کیلئے پریشان

اربوں روپے جیتنے والا پاکستانی معمولی نوکری کیلئے پریشان
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں 13.6 ملین ڈالر کی لاٹری جیتنے والا پاکستانی جنید یہ فیصلہ کرنے سے عاری ہے کہ اب اسے ڈرائیور کی نوکری چھوڑ دینی چاہئے یا نہیں، جس سے وہ ماہانہ 1600  ڈالر (تقریباً 2 لاکھ 77 ہزار پاکستانی روپے) کماتا ہے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 36 سالہ جنید رانا نے ’محظوظ گرینڈ پرائز‘ میں 13.6 ملین ڈالر (50 ملین عرب امارات درہم) کی انعامی رقم جیتی۔ جنید دبئی میں ایک کمپنی میں ڈرائیور کی نوکری کرتا ہے اور اسے ماہانہ 1600 ڈالر تنخواہ ملتی ہے تاہم اب وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ انہیں نوکری چھوڑ دینی چاہئے یا جاری رکھنی چاہئے۔ 

جنید نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں جہاں کام کر رہا ہوں وہ جگہ مجھے پسند ہے اور مجھے اپنی کمپنی سے پیار ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ میرے لئے بہترین کمپنیوں میں سے ایک ہے لہٰذا میں نے ابھی اپنی نوکری چھوڑنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جنید لاٹری سے حاصل ہونے والی رقم سے دبئی اور پاکستان میں پراپرٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ 

جنید رانا اگرچہ سرمایہ کاری کی خواہش رکھتا ہے مگر اس کیساتھ ہی وہ اس دولت کیساتھ اپنی خواہشات کی تکمیل بھی چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے اور اپنے بھائی کیلئے دو مہنگی گاڑیاں بھی خرید لی ہیں۔ جنید 2 بچوں کا باپ ہے اور تیسرے بچے کی پیدائش بھی متوقع ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تیسرا بچہ اس کیلئے خوش قسمت ثابت ہوا ہے۔ 

جنید نے مزید بتایا کہ اتوار کے روز وقفے کے دوران جب میں اپنے ساتھیوں سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ کسی شخص کی 13.6 ملین ڈالر کی لاٹری نکلی ہے جس پر میں نے کہا کہ واہ! کیا خوش قسمت شخص ہے اور پھر میں نے انہیں بتایا کہ میں نے بھی ایک ٹکٹ خرید رکھا ہے۔ 

جنید نے جب اپنے ٹکٹ کا نمبر دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا جبکہ اس کے ساتھیوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ جنید نے بتایا کہ وہ سب اچھل کود رہے تھے اور چلا رہے تھے۔ جنید اپنے اہل خانہ کی مدد کیلئے 9 ویں کلاس سے ہی تعلیم چھوڑ کر کام کاج میں مصروف ہو گیا تھا اور اس وقت اس کے اہل خانہ مالی پریشانی کا شکار بھی ہیں لیکن اس کا کہنا ہے کہ لاٹری جیتنے کے بعد میرے پورا خاندان ہی نہیں بلکہ نسل کی قسمت بھی تبدیل ہو گئی ہے۔