وزیر اعظم کا کسان پیکیج

وزیر اعظم کا کسان پیکیج

قرون وسطیٰ میں یورپ کا معاشرہ طبقات میں بٹا ہوا تھا،سب سے اہم شخصیت بادشاہ کی تھی جس کے پاس فوجی،سیاسی قوت تھی اس کے بعد فیوڈل لارڈ تھے جو اپنی جاگیروں میں مکمل اختیارات کے مالک تھے۔معاشرہ کا سب سے نچلا درجہ کسان، مزارع کا تھا،جو فیوڈل لارڈ کی زمین کاشت کرنے پر مجبور تھے، مالک اتنا بااختیار تھا کہ وہ جب چاہتا مزارعوں کو اپنی زمین سے نکال باہر کرتا، اس عہد میں بعض ممالک میں زمین مالکان کو یہ حق بھی ملا ہواتھا کہ وہ اپنے کسانوں کو فروخت بھی کر سکتے تھے،یا وہ وقتی معاوضہ لے کر کسی دوسرے کے حوالہ کر دیتا،کہاں جاتا ہے کہ روس میں جب زمین فروخت کی جاتی تو اس کے ساتھ مزارع بھی بیچ دیا جاتا تھا، کسان کو اجازت نہ تھی کہ وہ مالک کی مرضی کے بغیر زمین یا گاؤں چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے۔

تاریخ کے اوراق اس بات کے شاہد ہیں کہ کسان ہی وہ طبقہ ہے جو ہر دور میں زیر عتاب رہا ہے۔ کسانوں کی جانب سے بھی تحاریک اٹھتی رہی ہیں،ابتدائی طور پر عام تحریکیں جاگیر دارانہ اور نیم جاگیردارانہ معاشروں میں تضاد کا نتیجہ رہی ہیں،مختلف ممالک میں بہت سے واقعات کسان بغاوتوں سے عبارت ہیں،کسان تحریک کسانوں کے حقوق کے لئے زرعی پالیسی کے متعلق ایک”سماجی موومنٹ“ مانی جاتی ہے، جو عمومی طور پر کم پر تشدد ہوتی ہیں، ان کے مطالبات ہر ملک میں قریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، زرعی مصنوعات کی بہتر قیمتیں،اچھی اجرت،زرعی کارکنان کے لئے بہتر معاشی حالات، زرعی پیداوار میں اضافہ قابل ذکر ہیں۔

برصغیر میں برطانوی معاشی پالیسیوں نے زمینداروں، ساہو کاروں کو تو تحفظ فراہم کیا اور خطہ کے کسان کا استحصال کیا ہے،متعدد مواقع پر کسانوں نے اس ناانصافی کے خلاف بغاوت کی ہے،ماضی میں بادشاہ کے وفاداروں کو انکی خدمات کے صلہ میں وسیع رقبے دینے کی روایت موجود رہی ہے جس نے جاگیر داری نظام کو جنم دیا ہے برطانوی عہد میں مزارعے زمین پر کام کرتے تھے جبکہ لگان جاگیر دار وصول کرتا تھا۔بڑے رقبے والے نواب، راجے، مہاراجے کہلاتے تھے۔ ہندوستان نے آزادی کے بعد اس استحصالی نظام کو ختم کر دیا، زرعی اصلاحات کے باوجود ہمارے ہاں جاگیرداری نظام کسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجود ہے۔

ارض وطن میں زمین کی تقسیم در تقسیم سے اب جاگیر دار تو نہیں رہے مگر بڑے بڑے زمیندار، سردار ضرور موجود ہیں، جن کے زیر استعمال اب بھی بڑے وسیع رقبے ہیں،کم وبیش یہی خاندان ہر دور میں حکومت میں رہے ہیں،ان میں بہت سے صنعت کاروں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔ایسے جاگیر داروں کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاری اور مزارعوں کی معاشی حالت آج بھی ایسی ہی ہے جیسی قرون وسطیٰ کے دور میں تھی فرق صرف اتنا ہے معاشی نا انصافیوں پر آواز اٹھانے کی انھیں اب آزادی ہے لیکن مزارع آج بھی مقروض اُسی طرح ہے جس طرح ماضی ہوا کرتا تھا۔ جس شدو مد سے سیاسی تحاریک یہاں چلائی گئی ہیں اس انداز میں کبھی کسانوں کو وسیع پیمانے پر اپنے حقوق کے لئے تحریک چلانے کا موقع نہیں ملا، اس کے برعکس ہمسایہ ملک میں کسانوں کی منظم تحریک کی شہادت ملتی ہے،اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ کسان تنظیمیں زیادہ منظم نہیں ہیں،انکی قیادت بھی اُن سیاسی افراد کے ہاتھ میں ہے جو کسی نہ کسی اعتبار سے کسان کاا ستحصال کرنے کا موجب ہیں۔

گزشتہ دنوں اس طرح کی ایک تحریک کسان اتحاد کے پلیٹ فارم سے دیکھنے کو ملی،جب کسان سراپا احتجاج تھے اور انھوں نے وفاقی دارالحکومت میں اپنے مطالبات کی بابت مذاکرات بھی کئے انھیں یہ کہہ کر رخصت کر دیا گیا کہ وزیر اعظم کسان برادری کے لئے جلد ایک پیکیج کا اعلان کریں گے،تاحال وہ سامنے نہیں آسکا ہے۔ انکے چیدہ چیدہ مطالبات میں پانی کی فراہمی، زرعی اراضی کو رہائشی کا لونیوں میں منتقل کرنے سے باز رکھنا، کھاد،بیج،سپرے میں ملاوٹ کو روکنا، غیر معیاری اشیاء کی خریدو فروخت کو بند کرنا، اجناس کی بہتر قیمت دینا، مہنگی بجلی سے نجات شامل تھے،یہ مطالبات تو اربع صدی سے دہراے جارہے ہیں لیکن ہر حکومت نے کسان کو ہمیشہ میٹھی گولی ہی دی ہے، المیہ یہ ہے کہ ہر سطح کے ادارے کسانوں کی خدمت کے لئے موجود ہیں مگر پھر بھی اُن کا کوئی پرسان حال نہیں،زراعت کسی بھی سرکار کی پہلی ترجیح نہیں رہی اس لئے یہ شعبہ ہر دور حکومت میں زوال پذیر رہا ہے۔

مقام حیرت ہے کہ مافیاز اس قدر طاقتور ہیں کہ سرکار خالص کھاد، بیج،سپرے کی فراہمی تاحال یقینی نہیں بنا سکی ہے،جس کے لئے کسان کو احتجاج کرنا پڑا ہے،اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ہر صوبائی حکومت اپنی گورننس سے مقابلہ کی فضاء قائم کرتی کہ ہر صوبہ اناج میں خود کفیل  ہوجاتا،اس کے برعکس اب ریاست کو فوڈ آئٹم درآمد کرنے پڑ رہے ہیں،یہ کل ہی کی بات ہے کہ پنجاب میں لپسی سکن وائرس کی بیماری سے ہزاروں گائیں مر گئیں جس نے کسان کی کمر توڑ کر رکھ دی مگر سرکار کی طرف سے انکی اشک شوئی کی گئی نہ ہی اس پر کوئی قومی کمیشن بناجو اسکی وجوہات جانتا، متاثرہ کسانوں کے ازالے کی تلافی کرتا۔جانوروں کے تحفظ اور لائیو سٹاک کی ترقی کے لئے تکافل پالیسی متعارف کرائی جائے۔

اب جیسے نسل در نسل زمین منقسم ہو رہی ہے تو کسان کے معاشی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، لہٰذا محدود مدت اور نقد آور فصلوں کی کاشت کی آگاہی دی جائے۔پانی کا مسئلہ زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے جہاں زیر زمین پانی کڑوا ہے، وہاں بھی نہروں کی بندش معمول کے مطابق کی جاتی ہے جبکہ ایسے علاقہ جات میں سرے سے نہروں کی بندش ہونی ہی نہیں چاہئے، کیونکہ وہاں تو جانوروں کو بھی پینے کا پانی نہیں ملتا۔

زرعی اراضی کو رہائشی میں عدم تبدیلی کا مطالبہ بر حق ہے اس کیلئے قانون سازی کی جائے نیز بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر صحرا پر مشتمل زرخیز رقبہ کو قابل کاشت بنانے کی سبیل نکالی جائے،وہ تمام زمین جو لیز پر دی گئی ہے اس کے مالکانہ حقوق اسکی فوری آبادی کاری سے مشروط کئے جائیں،اب صوبہ جات پانی کے ذخائر قائم کرنے میں خود مختیار ہیں تو انھیں اس کا اہتمام کرنا ہوگا، آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب چاہئے تو کالا باغ کے ڈیزائن میں معمولی تبدیلی کر کے اسے تعمیر کر سکتا ہے، اس پر مشاورت کی جائے۔

ملک کی غالب آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے، اس کے نوجوانان کے لئے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں، ماڈل دیہہ بنائے جائیں، تعلیم، صحت،ٹرانسپورٹ،منڈی سڑکیں یہ سہولیات دیہات میں ہی میسر ہوں۔

نئی فصل کی آمد پر ہر کسان اس کی بہتر قیمت کے حصول کے لئے پریشان ہوتا ہے،سرکار کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اسکی خرید کرے تاکہ وہ اگلی فصل کو بغیر کسی معاشی پریشانی کے کاشت کر سکے۔

حالیہ سیلاب نے سرکار کی نااہلی کی قلعی کھول دی ہے کہ ہزاروں ٹن گندم پانی کی نذر ہوگئی ہے،اگر یونین کونسل کی سطح پر سٹوریج کا اہتمام ہو تو پھر خوراک کے بحران کا سامنا  نہ ہو۔گندم کے بحران کا سامنا اس وقت سرکار کو درپیش ہے۔

وزیر اعظم کے پیکیج کا انتظار ہر اس کسان کو ہے جو کسانوں کے احتجاج کی طرف دیکھ رہا تھا، اگر کوئی یہ سمجھتا کہ کسان کی معاشی بدحالی کے باوجود ملک خوشحال ہو جائے گا،تو یہ بڑی غلط فہمی ہے، اس ریاست کی خوشحالی کسان کی امارت سے عبارت ہے۔

مصنف کے بارے میں