'کشمیر کے حالات بگڑ گئے تو نہ میرے اور نہ ٹرمپ کے قابو میں رہیں گے'

'کشمیر کے حالات بگڑ گئے تو نہ میرے اور نہ ٹرمپ کے قابو میں رہیں گے'
مجھے خطرہ ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام ہو گا، وزیراعظم عمران خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ سوشل میڈیا

نیو یارک: وزیراعظم عمران خان نے امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہے اور 50 روز سے زائد ہو گئے ہیں اور 80 لاکھ افراد لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ بد سے بدتر ہوتا جائے گا اور یہ انتہائی خطرناک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو درست طور پر سمجھ نہیں آ رہی کہ کشمیر میں ہو کیا رہا ہے۔


عمران خان نے کہا کہ جب سے نریندر مودی کی حکومت آئی کشمیریوں پر جبر مزید بڑھا دیا گیا ہے اور کشمیری کئی سال سے حق خوداردیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب کرفیو ہٹے گا تو وادی کے حالات کھل کر دنیا کے سامنے آ جائینگے۔ بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان تصادم ہو گا اور مجھے خطرہ ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام ہو گا۔ اگر حالات مزید بگڑ گئے تو نہ میرے اور نہ ہی امریکی صدر کے قابو میں آئیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندوؤں کی اجاداری پر یقین رکھتے ہیں اور انتہا پسند افراد بھارت کو یرغمال بنا کر وہاں حکومت کر رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ عالمی رہنما بھارت کو ایک ارب 20 کروڑ کی مارکیٹ دیکھتے ہیں جبکہ وہ معیشت اور تجارت کو انسانوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔

عمران خان نے افغان مسئلہ اور امریکا طالبان مذاکرات کے بارے میں کہا کہ افغانستان میں امریکی جنگ کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جا رہا ہے حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔ افغانستان میں حالات پہلے سے بھی خراب ہیں اور امن مذاکرات کی ناکامی مایوس کن ہے۔ پاکستان ایک بار پھر افغانستان امن مذاکرات میں مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے ایران امریکا کشیدگی کے معاملے پر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر پاکستان کی مدد مانگی ہے کیونکہ وہ خود ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف ہیں۔ اس معاملے پر ایرانی صدر حسن روحانی سے بات ہوئی ہے اور جو ہو سکا کروں گا۔