بعض ممالک نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، وزیراعظم عمران خان

بعض ممالک نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، وزیراعظم عمران خان

مہمند ایجنسی: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ دشمن کی کوشش ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام میں رکاوٹ ڈالی جائے۔


یہ بات انہوں نے مہمند ایجنسی میں عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر حکومت کا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ میں آپ کو حکومت کی پالیسی بتانا چاہتا ہوں۔ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ میں بنائی گئی تھی۔ مدینہ کی ریاست جن اصولوں پر کھڑی ہوئی تھی، وہ ہمارا نظریہ ہے۔ مدینہ کی ریاست میں بیوائوں، یتیموں، لاچاروں اور غریبوں کی ذمہ داری لی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نظریہ بتاتا ہے کہ حکومت کس طرف جا رہی ہے۔ کمزور طبقے کو اوپر لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جو ترقی ہو وہ ایسی ہونی چاہیے جس سے تمام علاقوں کو اوپر اٹھایا جائے۔ ہماری پالیسیوں کا تمام محور کمزور طبقے کی بحالی ہے۔

انہوں نے بغیر کسی جماعت کا نام لئے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی اندرون سندھ سے آتی ہے وہ کراچی کیلئے کچھ نہیں کرتی۔ پنجاب میں بھی ایسا ہی کیا گیا، ایک شہر کو اوپر اٹھایا گیا جبکہ باقی علاقوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے ووٹ سے کوئی اقتدار میں نہیں آتا تھا اس لئے اس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ جب سے پاکستان بنا ہے قبائلی علاقوں میں خوشحالی نہیں آئی۔ قبائلی علاقوں کیلئے میرا واضح موقف ہے۔ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ فنڈز قبائلی علاقوں پر خرچ کئے جائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی ہوتی ہے تو تمام طبقات کو اوپر اٹھانے کیلئے ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ غربت قبائلی علاقوں میں ہے۔ تجارت کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں ترقی ہوگی۔ سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کیلئے مارکیٹس کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغان امن عمل بارے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کیلئے مذاکرات شروع ہو چکے ہیں لیکن بہت سے دشمن عناصر چاہتے ہیں کہ وہاں امن قائم نہ ہو۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے دورہ مہمند کے دوران ناحقئی سرنگ اور شیخ زید روڈ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے خصوصی ہدایت کی کہ قبائلی علاقوں میں ترقی کیلئے کوئی کمی نہ رہنے دی جائے۔ ہمیں بارڈر پر سمگلنگ کو ہر حال میں روکنا ہوگا۔

ان منصوبوں سے مہمند اور باجوڑ کے لوگوں کو نقل و حمل اور روزگار کے بہتر مواقع ملیں گے اور صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع کے ساتھ رابطہ بہتر ہوگا۔

بعد ازاں باجوڑ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج تک کوئی معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکا، ہم نے قبائلی علاقوں میں تعلیم کو عام کرنا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے شہریوں کو صحت کی تمام سہولتیں میسر ہونگی۔ عوام کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاستدان مجھ سے زیادہ قبائلی علاقوں کو نہیں جانتا۔ میں نے پورے علاقے کا دورہ کر رکھا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ قبائلی علاقوں کو ترقی دی جائے۔ سڑکیں بننے سے یہاں کے عوام کو تجارت کیلئے آسانیاں ہونگی۔ علاقے میں تجارت کے فروغ سے یہاں کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔