ڈی آئی جی کی سفارش کرنے پر چیف جسٹس کا اپنے داماد پر سخت برہمی کا اظہار

ڈی آئی جی کی سفارش کرنے پر چیف جسٹس کا اپنے داماد پر سخت برہمی کا اظہار
فائل فوٹو

لاہور:چیف جسٹس پاکستان کا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈی آئی جی کی سفارش کرنے پر اپنے داماد خالد رحمان پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور اپنے داماد کی سرزنش بھی کی۔


ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کے بچوں کے حوالگی کیس کی سماعت کی اور اس موقع پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کی جانب سے اپنے داماد کے ذریعے سفارش کرانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کس نے آپ کو مشورہ دیا کہ میرے فیملی ممبر سے سفارش کرائی جاسکتی ہے، آپ کی جرات کیسے ہوئی میرے داماد سے مجھے سفارش کرانے کی۔

یہ بھی پڑھیں:ن لیگ کا ملک بھر میں جلسوں کا اعلان،نواز شریف کے خطابات کا شیڈول بھی جاری

چیف جسٹس نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کوئی سفارش کرے گا، میں جہاد کر رہا ہوں اور آپ مجھے سفارش کرا رہے ہیں۔

اس موقع پر ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ذرائع بتائیں جس نے آپ کو مجھے سفارش کرانے کا مشورہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی،پی پی پی ،متحدہ مجلس عمل آج سیاسی قوت کا مظاہرہ کریں گی

عدالت کے طلب کرنے پر چیف جسٹس پاکستان کے داماد خالد رحمان پیش ہوئے جس پر بند کمرہ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سرزنش کی اور استفسار کیا کہ 'بتائیں آپ کو کس نے سفارش کا کہا، آپ میرے بیٹے گھر پر ہوں گے یہاں چیف جسٹس پاکستان کے سامنے موجود ہیں۔داماد خالد رحمان نے بتایا کہ مجھے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے سفارش کی تھی جن کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹوں اور سابق اہلیہ کا نام ای سی ایل میں رہنا چاہیے۔

جسٹس ثاقب نثار کے داماد نے کہا کہ میں چیف جسٹس پاکستان سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اس کیس کی مزیدسماعت چیمبرمیں ہوگی۔واضح رہے کہ ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کی سابق اہلیہ نے اپنا اور بچوں کا نام ای سی ایل میں ڈلوانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں