فراڈ کیس:چیف جسٹس نے خاتون کے سابق منگیتر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرادیا

فراڈ کیس:چیف جسٹس نے خاتون کے سابق منگیتر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرادیا

لاہور:سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت کمرہ عدالت سے خاتون کے ساتھ ڈیڑھ کروڑ روپے کے فراڈ کے کیس کے ملزم خاتون کے سابق منگیتر کو گرفتار کرا دیا۔


ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سائلین کی درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے خاتون کے ساتھ فراڈ کیس کی سماعت کی اور اس موقع پر خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے سابق منگیتر نے فراڈ سے 50 لاکھ اور پراپرٹی ہتھیالی اور وہ رقم واپس کرنے کی بجائے دھمکیاں دے رہا ہے۔جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریماکس دیے کہ بدمعاشی ہے کہ بچیوں کے ساتھ فراڈ کیا جائے، اسے گرفتار کراتے ہیں، آدھے گھنٹے میں سچ بتا دے گا۔

بعدازاں عدالت نے سی آئی اے اور ایف آئی اے کو 2 ہفتوں میں انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں مختلف شہروں سے آئے سائلین کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مجموعی طور پر 111 درخواستیں نمٹائیں۔

چیف جسٹس نے متعدد درخواستوں پر متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے جب کہ عدالتی احکامات پر چیف سیکرٹری پنجاب کمرہ عدالت میں موجود رہے۔چیف جسٹس نے خاندانی تنازعات سے متعلق درخواستیں چیمبر میں نمٹائیں اور سپریم کورٹ کے باہر سائلین کو شکایات سیل میں درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔

ایک اور کیس میں میں چیف جسٹس نے نے ڈی جی لینڈ ریکارڈ کو عہدے سے ہٹا دیا اور ریمارکس دیئے کہ جو خواتین کی عزت نہیں کرسکتا وہ عہدے پر نہیں رہ سکتاہے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا لینڈ ریکارڈ اتھارٹیز کے ڈی جی کیخلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی،کمرہ عدالت میں ریکارڈ اتھارٹیز کی خواتین نے ڈی جی لینڈ ریکارڈ کیخلاف شکایات کے انبار لگا دیئے، خواتین اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے روتی رہیں.

چیف جسٹس پاکستان نے ڈی جی لینڈ ریکارڈ اتھارٹیز کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال کی سخت شرزنش کی،چیف جسٹس پاکستان نے ڈی جی کیپٹن ظفر اقبال کیخلاف کارروائی کا حکم دیا، جس پر کمرہ عدالت میں موجود خواتین نے تالیاں بجانا شروع کردیں، چیف جسٹس پاکستان نے خواتین کو تالیاں بجانے سے روک دیا،چیف جسٹس نے تمام ملازمین کو ہڑتال ختم کرنے کا حکم دیااور ہدایت کی کہ جو بھی مسائل ہیں وہ خود سنیں گے،لیکن ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو عدالتی حکم پر فوراً عمل درآمد کا حکم دے دیا۔