برابری کے حقوق بھی صرف طاقتوروں کے درمیان ہوتے ہیں، اسد عمر

برابری کے حقوق بھی صرف طاقتوروں کے درمیان ہوتے ہیں، اسد عمر
File Photo

اسلام آباد:  اسد عمر نے کہا ہے طاقتوروں کا قانون اور عوامی فلاح دونوں کسی ایک معاشرے میں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ قوموں کوآگے بڑھنے کے لیےمل کر قربانی دینی پڑتی ہے کسی ایک کو نہیں۔


 

سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ کسی ملک میں امیر اور غریب کا قانون ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، زندہ  قوموں کوآگے بڑھنے کے لیےمل کر قربانی دینی پڑتی ہے کسی ایک فرد کی قربانی سے کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے شعر’تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے ، ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘کا حوالہ دے کربتایا دنیا میں کمزور کی کوئی عزت یا بقا نہیں ہے بلکہ دنیا میں صرف وہی قومیں قائم رہ سکتی ہیں جو طاقتور ہوں گی۔ 

 

اس سے قبل انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا وہ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں جس میں لکھا ہوا تھاکہ برابری کے حقوق بھی صرف طاقتوروں کے درمیان ہوتے ہیں کمزور ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے اس لیے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پاکستان کو دنیا میں طاقتور ملک بن کر ابھرنا ہو گا۔