سیاست کے میچ فکسر !

سیاست کے میچ فکسر !

کرکٹ کے رموز سے ہلکی پھلکی سوج بوجھ والابندہ اس بات سے اچھی طرح واقف اچھے بھلے میچ کے دوران اچانک بہتر انداز سے بیٹنگ کرتا بیسٹمین کیسے وکٹ گنوا دیتا ہے ۔دنیا کے بہترین باﺅلر کی اچانک ایسی باﺅلنگ ہوجاتی ہے کہ سامنے کوئی عام سا کھلاڑی اس کی ایسے دھلائی کرتاہے کہ شائقین کرکٹ کو یقین کرنا مشکل ہو جاتاہے ۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے ؟ اچانک ایسا کیوں ہوجاتاہے ۔وہ لوگ باآسانی سمجھ لیتے ہیں جو کرکٹ کی ”الف “ سے ”ے“ تک جانتے ہیں ۔میچ کی فنشنگ(اختتامی مراحلے تک پہنچانے )میں مشہور کھلاڑی کو اچانک میچ ختم ہونے سے چند لمحے پہلے ہی آﺅٹ کروا دیا جاتاہے ۔آﺅٹ کروانے والا کوئی اور نہیں زیادہ تر اس کا ساتھی بیسٹمین ہوتا ہے جو رنز لینے کی چکر میں فنشنگ کے ماہر کھلاڑی کو خطرناک طریقے سے رن آﺅٹ کروا دیتاہے۔یا وہ خود ایسا غلط سٹروک کھیلتاہےکہ باؤنڈری پر کیچ دے بیٹھتاہے۔


بس ایسا ہی کچھ حال پاکستانی سیاست کا ہے ۔یہ بھی کرکٹ کے کھیل کی طرح میچ فکسنگ سے لیکر میچ فنشنگ تک کی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے ۔ پاکستانی سیاست میں میچ فکسنگ کی ابتداء1970کے اوائل سے ہوئی جس کے بعد 1971میں صرف 24سال بعد پاکستان دولخت ہو گیا ۔ اس میچ فکسنگ کے بعد سے لیکر جولائی 2017  تک کی تاریخ پاکستانی سیاست میچ فکسنگ اور میچ فنشنگ کی داستانوں سے بھری پڑی ہے ۔مگر ایک بات تہہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں اگر1988سے لیکر آج تک جمہوری اقدار کا تصور اپنا ٹائم فریم پورا کرتا رہتاتو جمہوریت کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک مضبوط ملک ہوتا ۔1988میں اچھی بھلی جمہوری حکومت کو کس طرح میچ فکسنگ کرکے ختم کیا گیا ۔ صرف 20ماہ بعد ہی اس حکومت پر الزامات لگائے گئے اچھے بھلے میچ کی طرح فکسروں نے فکسنگ کرکے میچ ہروا دیا سالوں بعد  وقو ع پذیر ہونے والی جمہوریت میچ میں پھر ہار گئی ۔پھر ایک ایسا سلسلہ چل نکلا 1990،  1993، 1997اور 1999 کے دور میں بھی میچ فکسنگ چلتی رہی ۔اچھی بھلی جمہوری حکومتوں کی بساط ایسا لپٹی کہ کبھی کبھار تو فکسر خود حیران رہ گئے کہ ہم ایسا نہیں چاہتے تھے ۔مگر ایسا ہوتا رہا ۔

1988سے لیکر آج تک دیکھا جا ئے تو میچ کے کھلاڑی بھی منجھے ہوئے تھے ۔ جن پر ہر کسی کو اعتبار تھا کہ وہ میچ کی فنشنگ اچھی کریں گے ۔لیکن میچ فکسر کو اس وقت فائدہ پہنچ جاتا تھا جب وہی کھلاڑی انتہائی ”لوز “ بال پر آﺅٹ ہو کر پویلین چلتے بنے ۔کئی بار ساتھی کھلاڑیوں نے رن آﺅٹ کروا دیا ۔ جس کے بعد کرکٹ کی طرح اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑی دشمن بن گئے اور جہاں موقع ملااپنا حساب چکتا کیا ۔صرف ایک کھلاڑی جس نے اس پوری سیاست میں ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح اپنی اننگ کھیلی وہ زرداری تھا۔ زرداری حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتاہے کہ ہر آنے والے دن جانے والی حکومت پانچ سال پورے کر گئی ۔اسطرح کی فنشنگ(میچ کو مکمل )پاکستانی سیاسی تاریخ میں آج تک  کوئی نہ کر سکا۔

لیکن اس میں فکسنگ کرنے والوں کو اسلیے مشکل ہوئی کیونکہ زرداری نے اپنی مخالف پارٹی سے ”میثاق جمہوریت “ کا لالی پاپ دے کر فکسنگ کر لی تھی ۔1971سے لیکر 2008تک جس طرح پاکستان نے جس طرح حکومتیں آتی اور جاتی دیکھیں اس صورت حال میں یہ فکسنگ وقت کی ضرورت تھی ۔ مگر ایسی فکسنگ کا اب آگے چلنا ممکن نہیں تھی ۔ تاریخ ساز جیت کے بعد جو خمیازہ بھگتنا پڑا وہ 2013کے انتخابات میں سب نے دیکھ لیا۔ نواز شریف صاحب نے اپنے تیسرے دور میں ہر گیند کو میرٹ پر کھیلا ۔اپنے چار سال بہت اچھے گزارے لیکن میچ فنشنگ نہ کرنے میں مشہورنواز شریف متعدد بالز روکنے کے باوجودپھر ایک لوز بال پر آﺅٹ ہوگئے ۔

سیاست کی "الف " "ب" جا ننے والے جانتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں فکسنگ کرنے والوں میں ہر بار ایک مخصوص طبقے کا ذکر ہوتا ہے لیکن ایسا ہر بار نہیں ہوا کہ وہ ہی صرف فکسنگ کے تانے بانے بُن رہے ہوں ۔ کئی بار فکسنگ کرنے والوں میں اسی سیاسی جماعت کے اثر و رسوخ رکھنے والے سیاست دان بھی رہے ہیں ۔ جن کو میچ کےاختتامی مراحلے تک لے جانے والے  کھلاڑی کی میچ جیتنے کے بعد کی شہرت پسند نہیں ۔یہ وہی میچ فکسر ہیں جن کو موقع ملتا ہے تو میچ فنشنگ کے ماہر کھلاڑی کو ضرورت پڑنے پر غلط رن آﺅٹ کر وا دیتے ہیں ۔تاہم اس میں کچھ نہ کچھ اس میچ فنشنگ کھلاڑی کی غلطیاں ہوتی ہیں جو ہر بار میچ اپنے سر لے کر ہی جیتنے کی کوشش کرتاہے ۔کیونکہ اسے یہ ڈر ہوتاہے کہ اگر کسی اور نے بہتر انداز میں میچ ختم کرنے کی کوشش کی تو اس کی شہرت محدود ہو جائے گی ۔

اسی چکر میں وہ ان کھلاڑیوں کو غلط فیلڈنگ، باولنگ اور بیٹنگ نمبر دیتاہے ۔ جس پر وہ اپنی صلاحیتیں دکھا نہیں سکتے ۔حالنکہ ان منجھے ہوئے سیاست دانوں کو اگر موقع دیا جائے تو شاید وہ بہتر کارکردگی دکھاسکیں ۔ویسے بھی ایک سیاسی جماعت میں ایک میچ فنشنگ کھلاڑی نہیں ہونا چاہیئے بلکہ متعدد ایسے کھلاڑی مختلف نمبروں پر بیٹنگ اور باﺅلنگ کروانے کے اہل ہونے چاہیے۔جہاں وہ اپنی کارکردگی سے اپنا حصہ ڈال سکیں اور میچ جتو اسکیں ۔مگر ایسے حالات میں بڑے کھلاڑی کو ان پر انحصار کرنا ضروری ہے ۔ ورنہ ہر بار کی طرح میچ فکسروں کو موقع ملتارہےگا۔اور ان میچ فکسروں کی مدد وہی کریں گے جن کو وہ نظر انداز کرتا رہاہے۔

دیکھتے ہیں تین ،تین بار باریاں لینے والے اب کتنے میچ فنشنگ کھلاڑی پیدا کرتے ہیں ،مگر ابھی تک صورت حال ایسی ہی ہے کہ مستقبل میں میچ فکسروں اور اپنے ہی بیسٹمینوں کے ذریعے رن آﺅٹ ہونے کا سلسلہ چلتا رہے گا۔جو کہ پاکستانی جمہوریت کے لیے نقصان دہ بات ہے ۔

بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

محمد اکرم شانی< Blogger

محمد اکرم شانی  سینئیر صحافی, بلاگر  اور سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہیں ،آج کل  نیو ٹی وی نیٹورک سے وابسطہ ہیں.