چاہتا تو میاں صاحب کو حکومت نہ کرنے دیتا :آصف زرداری

چاہتا تو میاں صاحب کو حکومت نہ کرنے دیتا :آصف زرداری

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے اگر میں چاہتا تو میاں صاحب کو حکومت نہ کرنے دیتا ٗ لیکن ہم نے کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی۔ ہم پر ظلم کی طویل داستانیں ہیں ٗ میرے خلاف سب کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے ٗ جتنی ان کیسز میں سزا ہو سکتی تھی اس سے زیادہ سزا کاٹ چکا ہے ۔


پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ مرتضیٰ بھٹو کو شہید کر کے بینظیر بھٹو شہید کی حکومت کو گرایا گیا یہ وہ کیسز ہیں جن میں میری سزا مکمل ہوئی ٗہمیں پتہ تھا کہ ہم پر سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں ٗہمارے خلاف تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے این آر او اس لئے کیا کہ اس میں انتخابی اصلاحات تھیں ٗبی بی نے کہا ایف آئی آر کٹواؤں گی کہ آصف زرداری کو اغوا کیا گیا ٗبی بی کو کراچی میں تین بچوں سمیت ہاؤس اریسٹ کیا جاتا ہے ٗمجھے لاہور سے نہ جانے کتنی کرنسی کے ساتھ پکڑا گیا تھا ٗمجھے ایم پی او کے تحت بند کیا گیا ٗ دیگر کیسز میں قید رکھا گیا ٗ میرا آخری کیس بھی ختم ہو گیا ہے

سابق صدر نے مزید کہا کہ آج آپ سب کو اور وکیلوں کو اس لئے بلایا گیا کہ آپ کو بتایا جا سکے کہ اس ملک میں ایسا بھی ہو سکتا ہے جب میاں صاحب کی پچھلی حکومت گئی تو اس وقت میرے اوپر دو کیسز ہوئے تھے ایک تو میرے اوپر نارکوٹکس کیس تھا جس میں ایک گواہ کو پھانسی کی سزا دیکر لاتے ہیں کہ اگر تم نے گواہی نہیں دی زرداری صاحب کیخلاف تو تمہیں پھانسی کی سزا دی جائیگی اور پھر اس گواہ عارف بلوچ کو پھانسی کی سزا ہوتی ہے۔ پھر ایوب آفریدی ٗ خٹک ٗ کافی اس قسم کے لوگ جنہیں نہ میں جانتا تھا اور نہ پہچانتا تھا ان سب کو لا کر میرے خلاف گواہ بنایا ۔ مگر وہ سب گواہ مکر گئے۔ پھر میری آخری ضمانت ہوتی ہے لاہور میں تو میں جج صاحب کو کہہ رہا تھا کہ میری ضمانت کردیں ورنہ ان لوگوں نے میرے اوپر اور کوئی کیس بنا دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری عدلیہ کیساتھ جو تاریخ رہی ہے وہ یہ ہے کہ میں عدلیہ کے ساتھ لڑتا نہیں ۔ میں ان کے ساتھ اس وقت تک بھاگتا ہوں جب تک وہ خود نہ بچ گئی۔ جب میری نارکوٹکس کیس میں ضمانت ہوئی تو ایس پی کو فون آ رہے تھے کہ اس کو چھوڑنا نہیں۔ ابھی میں پنڈی بھی نہیں پہنچا تو بی ایم ڈبلیو کیس آ جاتا ہے ۔ ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی جو میرے نام پر نہیں ٗ میرے گھر سے نہیں اٹھتی کسی شو روم سے اٹھتی ہے وہ مجھ پر لگا دی جاتی ہے۔ میں کہتا ہوں جج صاحب سے کہ گاڑی ہے اگر ڈیوٹی کم دی ہے تو آپ گاڑی ضبط کر لیں مسئلہ کیا ہے۔ بندہ کیسے آپ ضبط کر سکتے ہیں۔ میں نے آج تک عدالت سے 12کیس جیتے ہیں ٗ میرے ساتھ ایسا ایسا مذاق ہوا کہ ان کے اپنے ایڈووکیٹ جنرل کے آفیسز سے میرے خلاف کیس بنائے گئے۔