پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن ہے، احسن اقبال

پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن ہے، احسن اقبال

اسلام آباد :  وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن ہے پاکستان میں کاروبار کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ مشترکہ منصوبے بنانا ہوں گے سی پیک کے تحت گوادر مستقبل کا تجارتی روٹ ہو گا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20کروڑ سے زائد آبادی کے ملک کے لیے خوراک کے وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں جن پر ہمیں کام کرنا ہو گا پاکستان کو ترقی کی نئی منزل کی جانب گامزن کیے ہوئے ہیں اور غربت کے خاتمے کے لیے ہمیں چین کے ماڈل کو اپنانا ہو گا پاکستان کی دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ترقی کے فروغ کے لیے ہمیں چین کے ساتھ اپنے کاروباری روابط کو مزید فروغ دینا ہو گا ضروری ہے کہ معاشی ترقی کے لیے چین کے ساتھ ملکر مشترکہ منصوبہ جات بنائے جائیں اور ان پر دن رات کام کیا جائے ۔


احسن اقبال نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے چین کے ماڈل کو اپنانا ہو گا چین انسانی تاریخ میں ایک واضح مثال ہے جس نے مختصر مدت میں 800ملین لوگوں کو غربت سے نکال باہر کیا اس لیے ہمیں چین کے ماڈل کو اپنانا ہو گا کہ اس نے کس طریقے سے اپنے لوگوں کو خوشحال بنایا اور وہ کس طرح دنیا کی طاقتور معیشت کے طور پر ابھراچین کے ماڈل کو اپناتے ہوئے ہم اپنی آئندہ نسلوں کو خوشحال مستقبل دے سکتے ہیں ہماری دو تہائی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے 20کروڑ آبادی کے ملک کو خوراک کی فراہمی کے لیے وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اگر ہم نے اپنی معیشت کو مضبوط نہ کیا تو ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل بہت تاریک ہو جائے گا سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیاء کے ملک سی پیک منصوبے سے مستفید ہوں گے یہ منصوبہ خطے میں خوشحالی لائے گا سی پیک میں نہ صرف توانائی ، ریل ، سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں بلکہ اس سے صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گااور مصنوعات کی مہم رسائی بھی بآسانی ممکن ہو گی ترقی کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ کاروباری روابط کا فروغ ضروری ہے پاکستان میں کاروبار کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ مشترکہ منصوبے بنانا ہوں گے سی پیک کے تحت گوادر مستقبل کا تجارتی روٹ ہو گا پاکستان وژن 2025کے حصول کے لیے اپنے ٹریک پر چل رہا ہے پاکستان وژن 2025کے تحت دنیا کی 50بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن ہے وژن 2025کے تحت چین کے تعاون سے پاکستان ایشین ٹائیگر بنا سکتے ہیں مجھے امید ہے کہ ہم مستقبل میں وسطی ایشیاء میں مزید کاروباری مراکز قائم کرنے کے قابل ہو جائیں گے ہم آئندہ پاکستان اور وسطی ایشیاء میں ایک ایسی یونیورسٹی قائم کریں گے جس میں خطے کے اساتذہ اور طالبعلم خطے اور ہمارے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ملکر کام کریںگے۔