پی ٹی آئی حکومت نے پیمرا اور پریس کونسل کے قوانین پر نظرثانی کا فیصلہ کر لیا

پی ٹی آئی حکومت نے پیمرا اور پریس کونسل کے قوانین پر نظرثانی کا فیصلہ کر لیا
پیمرا ا ور پریس کونسل کو ختم کر کے ایک نئی باڈی کا قیام عمل میں لایا جائے گا / فواد چوہدری

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سینیٹ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے قانون پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ایک پریس کونسل ہے اور دوسری جانب پیمرا ہے، پریس کونسل صرف اخبارات کو دیکھتی ہے جبکہ پیمرا الیکٹرونک میڈیا کے معاملات پر نظر رکھتا ہے۔لہٰذا میڈیا کے نمائندوں اور دیگر افراد کی آراء کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیمرا ا ور پریس کونسل کو ختم کر کے ایک نئی باڈی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کا نام پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایم آر اے) ہوگا۔یہ اتھارٹی نہ صرف الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا کے معاملات کو دیکھے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے تحت ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے والے سائبر میڈیا سمیت تینوں اقسام کے میڈیا پر یکساں سطح پر قوانین کے اطلاق کے حوالے سے معاملات دیکھے جائیں گے۔

فوواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس سے ریاست کے وسائل بھی کم خرچ ہوں گے، تمام اتھارٹیز کو اکھٹا کرکے اعلیٰ ترین پیشہ ور افراد پر مشتمل افراد کی ٹیم کو اس حوالے سے کام سونپا جائے گا، جس میں میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے ریمارکس دیے کہ میڈیا کا اپنا ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے تو اس سلسلے میں ہم اقدامات کرر ہے ہیں اور آنے والے دنوں میں وزارت اطلاعات اور نشریات میں ریگولیٹری باڈی اور پی ٹی وی میں بہت بہتری دیکھنے میں آئے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مزید کہا کہ  کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی کو دکھانے کے لیے ایک نئے سرکاری چینل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دنیا بھر میں جو چینلز پارلیمنٹ کی کوریج کرتے ہیں یہ چینل بھی اسی میعار کا ہوگا جس سے لوگوں کو اندازہ ہوگا کہ ان کے نمائندوں کی پارلیمان میں کارکردگی کیا ہے۔اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے کیوں کہ آج جو اپوزیشن نے رویہ اپنایا اس سے لوگ خوش نہیں ہوں گے۔