شوکت ترین اور وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری کی ٹیلی فونک گفتگو منظرعام پر آ گئی

شوکت ترین اور وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری کی ٹیلی فونک گفتگو منظرعام پر آ گئی

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءشوکت ترین اور وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو منظرعام پر آ گئی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق شوکت ترین نے محسن لغاری کو کہا کہ یہ جو انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کو 750 ارب کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے، آپ نے اب کہنا ہے کہ ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی، اب سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت پیسہ خرچ کرنا پڑے گا، آپ نے اب یہ لکھنا ہے کہ ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کرپائیں گے، یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔

شوکت ترین کے ایسا کہنے پر محسن لغاری نے جی بالکل کہہ کر جواب دیا جبکہ شوکت ترین نے گفتگو میں مزید کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں ان پر دباؤ پڑے، یہ ہمیں اندر کرا رہے ہیں اور ہم پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بالکل سکاٹ فری جارہے ہیں یہ نہیں ہونے دینا ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے محسن لغاری کو کہا کہ تیموربھی ایک گھنٹے میں کرکے بھیج رہاہے آپ بھی ذراکہیں مجھے بھیج دیں، پھر ہم یہ کرکے اس کو وفاقی حکومت کو بھیج دیں گے ، پھر ہم اس کو آئی ایم ایف کے نمائندوں کو ریلیز کردیں گے۔ 

شوکت ترین کی بات پر وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری نے سوال کیا کہ کیا اس سے ریاست کونقصان نہیں ہو گا؟ اس پر شوکت ترین نے کہا کہ یہ جس طرح چیئرمین اور دیگر کو ٹریٹ کر رہے ہیں، اس سے ریاست کونقصان نہیں ہو رہا؟ دیکھو یہ تو ضرور ہو گا کہ آئی ایم ایف کہے گا پیسے کہاں سے پورے کریں گے، یہ منی بجٹ لے کرآجائیں گے، یہ ہمیں مس ٹریٹ کر رہے ہیں اور ریاست کے نام پر بلیک میل کررہے ہیں، ہم ان کی مدد کرتے جائیں یہ تو نہیں ہو سکتا اور یہ ہم نے کل طے کیا ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ یہ آئی ایم ایف کو ریلیز کرنا ہے یا نہیں یہ ہم چیئرمین سے پوچھ لیں گے جس پر محسن لغاری نے کہا کہ سوشل میڈیاسے زیادہ پاورفل ٹول ہی کوئی نہیں، شوکت ترین نے جواباً کہا کہ ہاں تو ہمیں ریلیزکرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ سوشل میڈیا خود ہی کر دے گا، تیمور کہہ رہا تھا اور میں اس کے نمبر ٹو کو بہتر جانتا ہوں وہ ویسے ہی لیک کر دے گا، ہم ایسا سین کریں گے کہ یہ نہ نظر آئے کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں، آپ دے نہیں سکیں گے تو آپ کی جو کمٹمنٹ ہے اس کا مطلب ہے زیرو۔

مصنف کے بارے میں