آڈیو ریلیز ہوتی رہتی ہے اور یہ کٹ پیسٹ کرتے رہتے ہیں: اسد عمر

آڈیو ریلیز ہوتی رہتی ہے اور یہ کٹ پیسٹ کرتے رہتے ہیں: اسد عمر

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءاسد عمر نے کہا ہے کہ آڈیو ریلیز ہوتی رہتی ہیں، یہ کٹ پیسٹ کرتے رہتے ہیں، آڈیو میں شوکت ترین سیلاب سے متعلق بات کر رہے ہیں، یہ لوگ عمران خان کا مقابلہ سیاسی طریقے سے نہیں کر سکتے۔ 

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے روکنے کی کوشش ہوئی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے آئی ایم ایف معاہدے کے خلاف ایوان میں ووٹ ڈالا، قانون سازی پر دستخط کیلئے مقدمات ختم کرنے کی شرط رکھی، یہ لوگ عمران خان کا مقابلہ سیاسی طریقے سے نہیں کر سکتے۔ 

اسد عمر نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پر قانون سازی کے وقت اپوزیشن نے کہا کہ مقدمات ختم نہیں ہوں گے تو ہم مخالفت کریں گے، اس وقت کی اپوزیشن نے آخری حد تک کوشش کی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکلے۔ 

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کی تقریریں اٹھا کر دیکھ لیں، انہوں نے کہا کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی بنانے جا رہے ہیں، پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھنے جا رہے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ کیا کورونا وائرس کی وباءکے وقت عمران خان نے خود آئی ایم ایف سے رعایت نہیں لی تھی؟ اس وقت بھی ناگہانی آفت ہے، وزیراعظم دیگر ممالک سے پیسہ مانگ رہے ہیں، وہ آئی ایم ایف سے کیوں نہیں کہتے کہ اس وقت کچھ گنجائش دے دیں۔

اسد عمر نے کہا کہ تیمور جھگڑا نے وفاقی حکومت کو خط لکھا، خیبر پختونخوا حکومت نے 24 گھنٹوں میں وفاق کو مثبت جواب دیا، خط میں کہا کہ کچھ اقدامات ہیں جو وفاق کو لینے پڑیں گے، 2 ماہ سے وزیر خزانہ کے پی کے تیمور جھگڑا وقت مانگتے رہے لیکن موجودہ حکمران طاقت کے نشے میں دھت تھے، اس لئے 2 ماہ تک ملاقات کا وقت نہیں ملا۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو چکی ہے، حقیقت ابھی تک صرف ایک خط ہے، باقی سب صرف رولا ہے، جو بھی بات چیت ہوئی اس کا آخری نتیجہ خط ہے، اس میں کیا قابل اعتراض بات ہے، پی ڈی ایم کالز نہیں، پارلیمینٹ میں ووٹ ڈال کر آئی ایم ایف معاہدہ سبوتاژ کر رہا تھا، تیمور جھگڑا نے خود خط قوم کے سامنے رکھا۔

مصنف کے بارے میں