اسرائیل کی ہزاروں خواتین فوجیوں کی شرمناک تصاویر انٹرنیٹ پر عام ہوگئیں

تل ابیب:انسٹاگرام کا ایک اکاؤنٹ ان دنوں انٹرنیٹ صارفین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس اکاؤنٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر اسرائیلی فوج میں شامل خواتین کی نیم برہنہ تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق تمام اسرائیلی یہودی شہریوں بشمول لڑکیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ 18سال کی عمر کو پہنچ کر ’’قومی سروس‘‘مکمل کریں، جس کے تحت ہرشہری کو کم از کم 2سال تک اسرائیل کی مسلح افواج میں کام کرنا ہوتا ہے۔

اس دوران اگرچہ انہیں بھاری ہتھیاروں سے واسطہ ہوتا ہے اور کٹھن ٹریننگ کرنی ہوتی ہے لیکن اس دوران فوجی سروس میں آنے والی لڑکیاں سروس کے ساتھ ساتھ تفریح طبع کے لیے وہ سب کچھ بھی کرتی رہتی ہیں جو اس انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نظر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپنی عمر کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں موجود یہ لڑکیاں انتہائی مختصر لباس میں تصاویر بنا کر اس انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرتی ہیں جسے ساڑھے 34ہزار لوگوں نے فالو کر رکھا ہے اور اس تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

اس اکاؤنٹ پر 2ہزار فوجی لڑکیوں کی تصاویر موجود ہیں۔بعض تصاویر میں لڑکیوں نے فوجی یونیفارم پہن رکھی ہے اور بھاری رائفلیں اٹھا رکھی ہیں۔ تاہم زیادہ تر ایسی ہیں جو ساحل پر نیم برہنگی کی حالت میں دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔