ویزلین کے چار ایسے نقصانات جنہیں نا جاننا زندگی کا بڑا ٌپچھتاوا بن سکتاہے

نیویارک: آپ نے پٹرولیم جیلی( ویزلین ) تو اکثرلگائی ہوگی اور خصوصاًسردیوں میں اسے خشک جلد کو ٹھیک کرنے کے لئے استعمال کرتے ہوں گے لیکن آپ کو شائد یہ معلوم نہیں کہ اس کے 4نقصانات ایسے ہیں جس کی وجہ سے اسے کبھی بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
جلد کے زخم ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت
جب ہم ویزلین اپنی جلد پر لگاتے ہیں تو یہ جلد کے خلیوں کا آپسی رابطہ ختم کردیتی ہے جس کی وجہ سے ان کا آپس یں رابطہ نہیں ہوپاتااور زخم بھرنے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔یہ جلد کے نئے خلیے بنانے میں بھی وقت لیتی ہے اور ساتھ ہی جلد میںموجود نمی کو چوس لیتی ہے جس کی وجہ سے جلد بے جان اور روکھی ہونے لگتی ہے۔
نقصان دہ کاربز
ہماری جلد پٹرولیم جیلی کو جذب نہیں کرپاتی جس کی وجہ سے یہ میٹابولائز نہیں ہوتی اور جب تک اسے ہٹایا نہ جائے یہ جلد پر موجود رہتی ہے۔ ناریل یا دیگر تیلوں کی طرح یہ جلد میں جذب نہیں ہوتی۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ منرل آئل ہائیڈروکاربن کی وجہ سے انسان کو زیادہ نقصان ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے آلودگی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایسٹروجن کی زیادتی
پٹرولیم جیلی لگانے سے ایسٹروجن کی زیادتی ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے انسان کئی طرح کے مسائل جیسے ایام میں بے قاعدگی، جلد بڑھاپا، بانجھ پن، الرجی اور مدافعتی نظام میں خرابی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ویزلین میں xenoestrogensپائی جاتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں ایسٹروجن کا توازن خراب ہوتا ہے۔
دیگر مسائل
پٹرولیم جیلی میں 1.4ڈائی آکسین پائی جاتی ہے ،اسے carcinogenبھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی طرح کے کینسر بھی بن سکتے ہیں۔پٹرولیم جیلی کو سونگھنے سے پھیپھڑوں میں اس کے بخارات سرائیت کرجاتے ہیں جس کی وجہ سے سانس کے مسائل پیداہوجاتے ہیں۔