ٹوکیو:جاپان کے بڑے تجارتی ادارے کے سربراہ نے ملازمہ کی خودکشی کرنے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا۔ڈینٹسو کمپنی کے سربراہ تڈاشی اشی کا کہنا ہے کہ وہ جنوری 2017 میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔بتایا گیا ہے کہ 24 سالہ متسوری تکاہاشی جو کہ سنہ 2015 میں ڈینٹسو میں کام کرتی تھی کو ایک ماہ میں 100 گھنٹوں سے زیادہ اوور ٹائم لگانا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ ملازمہ نے گذشتہ برس دسمبر میں خودکشی کی تھی۔ انھوں نے اپنی والدہ کے نام ایک خط چھوڑا، جس پر لکھا تھا کہ 'چیزیں بہت مشکل کیوں ہو گئی تھیں؟ستمبر میں جاپانی حکومت نے ملازمہ کی خودکشی کے بعد کہا تھا کہ ایسا کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔وہ دفتر میں کئی گھنٹے کام کرنے کے بعد اکثر صبح پانچ بجے گھر آیا کرتی تھیں۔
بدھ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ یہ ایسی صورتحال ہے جس کی کبھی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کمپنی اب اپنے اوقات کار کے نظام کو دوبارہ دیکھ رہی ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ 100 سے زیادہ ملازمین ہر مہینے 80 گھنٹے زیادہ کام کرتے ہیں۔جاپان میں خودکشی کے رجحان میں زیادتی دیکھی گئی تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال 2000 سے زیادہ ملازمین نے کام کا دباو¿ ہونے کی وجہ سے خودکشی کی۔