جرمنی سے واپس پاکستان آنے والی خاتون ڈاکٹر کا قتل کیس حل ہونے کے بجائے الجھنے لگا

جہلم: جرمنی سے وطن واپس آنے والی خاتون کا قتل معمہ بن گیا۔ مقتولہ کے چودہ سالہ بیٹے نے ماں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خاتون پر تشدد ثابت ہوگیا ، دوران تفتیش ملزم شوہر نے بھی اپنا بیان بدل لیا۔اب ملزم کا کہنا ہے کہ گولی اس نے نہیں بلکہ چودہ سالہ بیٹے نے چلائی تھی ۔بیٹے نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ غلطی سے اس سے گولی چلی کو ماں کو جا لگی
باپ کے بعد بیٹے عمار نےماں کو قتل کرنے کا اعترافی بیان دے دیا. اس سے پہلے خاتون ڈاکٹر کو قتل کرنے کا اعتراف اسکے شوہر نے کیا، تاہم بعد میں بیان سے مکر گیااور کہا کہ گولی اس نے نہیں بلکہ چودہ سالہ بیٹے نے چلائی تھی۔
دوسری جانب ابتدائی ائی تحقیقاتی رپورٹ کچھ اورہی کہانی بیان کرنے لگی جس کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے۔جبکہ مقتولہ کی بہن نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ اسکی بہن کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔پولیس بھی کیس کو الجھانے میں پیش پیش ہے ، ملزمان کی گرفتاری ظاہر کرنے کے بجائے مبینہ طور پر انہیں تحفظ فراہم کرنا شروع کردیا۔

مصنف کے بارے میں