بھارت میں یہ گھناونا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ، کنواری لڑکیاں بدنامی سے بچنے کے لئےیہ کام کرنے پر مجبور

بھارت میں نوزائیدہ بچوں کی خریدو فروخت میں اضافہ ہو گیا جبکہ قانونی طور پر بچوں کو گودلینے میں تاخیر بڑھ گئی۔

سرکاری اعداد وشمار کے حوالہ سے بتایا گیا کہ بھارت میں لے پالک بنانے کے لئے 17000 بچے دستیاب ہیں جبکہ 12400 خاندان بچے لے پالک بنانا چاہتے ہیں۔ سینٹرل اڈاپشن رسورس اتھارٹی کے سربراہ دیپک کمار نے بتایا کہ بچوں کو لے پالک بنانے والوں کے انتظار کا بچوں کی بڑھتی ہوئی ٹریفکنگ سے بڑا گہرا تعلق ہے۔

بھارت میں ان دنوں نوزائیدہ بچے 2 لاکھ روپے سے لے کر 6 لاکھ روپے تک میں فروخت ہوتے ہیں ۔ جو کہ ذیادہ تر بیوائیں یا کنواری لڑکیاں بدنامی سے بچنے کے لئے فروخت کرتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بچے فروخت کرنے والے دو گروہوں کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے.

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی مختلف ریاستوں میں یہ کاروبار بڑھ رہا ہے جبکہ ریاست مہاراشٹرا میں حال ہی میں بچے فروخت کرنے پر دو اداروں کو بند کیا گیا ہے ۔

مصنف کے بارے میں