پولیس نے شراب پکڑی پھر فروخت کر دی

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے محلے مبارک آباد میں 36 افراد مر گئے اور کئی افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ مبینہ طور پر مقامی پولیس نے ایک ماہ قبل دیسی شراب کی بھاری مقدار پکڑی اور پھر اسے متعلقہ افراد کو ہی فروخت کر دیا اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو یہ اطلاع دی کہ جو چیز ہم نے پکڑی تھی دراصل وہ آفٹرشیو لوشن تھی جس میں سپرٹ ہے اور اسے ابھی خوشنما بوتلوں اور ڈبوں میں پیک کیا جانا تھا۔

پولیس کے انتہائی اعلیٰ حکام پولیس کی اس ایمانداری پر فرحت جذبات سے پھولے نہیں سماتے ہوں گے کہ پولیس سے ایک غلطی ہوئی اور پھر اس پر رجوع کر لیا گیا اور یقیناً شراب برآمدگی کا مقدمہ بھی دفن ہو گیا۔ مگر حقیقت میں پولیس نے یہ شراب فی بوتل کے حساب سے دوبارہ مالک کو ہی فروخت کر دی کہ نئے سال میں منافع بانٹ لیتے ہیں لہٰذا کرسمس کے موقع پر یہ زہریلی شراب پولیس کی جانب سے حصہ دے کر چھوڑ دی گئی شراب لوگوں کی زندگی ختم کرنے کا سبب بنی لواحقین دہائی دے رہے ہیں کہ ہمیں انصاف دیا جائے لواحقین کے اس مطالبے پر بعض لوگ معترض ہیں مگر وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ لوگوں کی جان و مال کی آئینی طور پر محافظ حکومت ہے یہ الگ بات کہ حکومت کو اس کا احساس ہی نہیں کہ وہ لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے شاید ورثے میں مال بناناحفاظت کی جگہ ودیعت کیا گیا اگر مال کی حفاظت مقصود ہوتی تو وفاقی وزیر داخلہ کے بار بار علم میں لانے پر اسلام آباد پولیس میری چوری کی گاڑی برآمد کر لیتی۔

یہ شراب کیسے فروخت ہو رہی تھی،اس  کو روکنا حکومت اور اس کے ماتحت پولیس کی ذمہ داری تھی مگر حد تو یہ ہے کہ پولیس نے اس شراب کو پکڑ کر مبینہ طور پر پھر سے آفٹر شیو ظاہر کر کے فروخت کر دیا اور متعلقہ شخص نے شراب پینے والوں کو فروخت کر دیا اور وہ چوری سے یہ موت حق حلال کی کمائی سے خریدتے رہے،

پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر او رقصبات میں شراب بڑے پیمانے پر فروخت ہوتی ہے اس طرح سعودی عرب اور ایران میں بھی بڑے پیمانے پر شراب فروخت کی جاتی ہے ایران میں بوتل کے حساب سے ملتی ہے مگر سعودی عرب میں ایک بوتل نہیں ایک کریٹ خریدنا پڑتا ہے (ایک درجن بوتلیں) ملک میں دہشت گردی کے خلاف ناکے لگے ہیں پولیس لوگوں کی گاڑیوں سے اسلحہ اور بارود نہیں شراب تلاش کرتی ہے جس سے شراب برآمد ہو گی اس سے رقم مل جائے گی اسلام آباد اور لاہور تک لگے ناکے محض شراب برآمدگی کے ناکے ہیں۔ ملک میں شراب کی قانونی فیکٹریاں موجود ہیں جن کا مقصد غیر ملکی غیر مسلموں اور پاکستان میں پرمٹ کے حامل افراد کو شراب فروخت کرنا ہے مگر کسی بھی غیر ملکی سیاح کو یہ شراب دستیاب نہیں ہوتی وہ دو یا تین دن کے لیے آتا ہے اور پرمٹ بنانے کے لیے کم از کم ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے ۔

چین کے باشندے کثرت سے شراب استعمال کرتے ہیں ،جلد ہی اسلام آباد میں یہ خبر مل سکتی ہے کہ اتنے چینی باشندے جعلی شراب کی بدولت آنجہانی ہو گئے جس پر چینی حکومت کا شدید رد عمل ہو گا کیونکہ دورہ چین کے دوران چینی صدر نے میاں نواز شریف کو دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ چینی قومیت کے لوگوں کی دہشت گردی میں ہلاکت یا اغواءناقابل برداشت ہو گا۔ یہ بات خود وزیراعظم نے بیجنگ میں مجھ سمیت کئی صحافیوں کو بتائی تھی۔ ممکن ہے پاکستان کا دشمن بھارت اس حوالے سے ایسی شراب کی چینی باشندوں تک رسائی کا کوئی راستہ نکال لے جس سے کوئی سانحہ رونما نہ ہو جائے اس حوالے سے حکومت کو فوری طور پر غیر ملکیوں ، چینی باشندوں اور غیر مسلموں کے لیے غیر ملکی اور پاکستان فیکٹریوں میں تیار ہونے والی شراب کی نگرانی کا اس طرح اہتمام کرتے کہ وہ غیر مسلموں، چینیوں اور غیر ملکی سیاحوں کی دسترس میں بھی ہو اور نگران بھی اس پر حصہ وصولی کا کوئی نظام نہ وضع کر لیں۔

شراب کے حوالے سے ہر شہر میں ایک مافیہ ہے جو کروڑوں روپے بناتا ہے مگر حکومت کو کوئی ٹیکس نہیں ملتا جبکہ متعلقہ لوگوں کو60 فیصد جعلی شراب دگنی قیمت پر فروخت کی جاتی ہے۔ اگر حکومت وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومت کے علاوہ سی پیک روٹ پر چینی باشندوں کے لیے خصوصی وائن شاپ کھولے جہاں کمپیوٹر کے ذریعے ریکارڈ کے علاوہ ان کی ویڈیو بھی محفوظ کی جائے تاکہ ہم دشمن کی سازش کا شکار نہ ہو جائیں جعلی اور زہریلی شراب کے ذریعے درجنوں افراد کی اجتماعی موت کوئی نئی بات نہیں اور نہ کوئی خبر ہے خبر تو یہ ہے کہ سندھ میں پچاس سے زائد افراد چند ماہ قبل زہریلی کچی شراب پینے سے مر گئے جنہیں سابق محترم وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے شہید بھی قرار دیا ویسے تو پیپلز پارٹی والوں کو ہر چیز شہید لگتی ہے جیسے محترمہ فریال تالپور نے کشمیر میں خطاب کرتے بلاول بھٹو کی موجودگی میں کہا بی بی کا شہید بیٹا بلاول بھٹو زرداری ۔

 آج بلاول بھٹو نے پنجاب میں زہریلی شراب پی کر مرنے والوں پر جو پیغام دیا ہے اسے وہ اس وقت سندھ میں جاری کرنے سے کیوں محروم رہے یا پھر مجرمانہ طور پر خاموش ، اس طرح کے واقعات انفرادی طور پر روزانہ ہوتے ہیں مگر اسے چھپا دیتے ہیں اور صرف اجتماعی موت کے واقعات سامنے آتے ہیں، شاید ہی کوئی سہہ ماہی ہو جس میں اجتماعی طور پر جعلی، کچی اور مدت کے بعد استعمال کی گئی شراب سے لوگ اجتماعی طور پر نہ مرتے ہوں مگر اس کا تدارک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اس حوالے سے باقاعدہ دکانوں کے لائسنس جاری کر کے متعلقہ افراد کو ہی اسے فروخت کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے ذوالفقار علی بھٹو خود کہتے تھے کہ وہ اس کا شوق کرتے ہیں مگر پابندی لگا دی تاکہ سیاسی فائدہ ہو ان افراد کی موت پر ہمیں ایک قومی لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے مرنے والے انسان اور پاکستانی تھے جس کو تحفظ دینا قانونی اور آئینی حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

عبدالودود قریشی روزنامہ نئی بات اسلام آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اور سینئر کالم نگار ہیں 

انکافیس بک لنک https://www.facebook.com/abdulwadood.qureshi