گاندھی کے بارے میں ایسا شرمناک انکشاف کہ بھارتی شرم سے پانی پانی ہو جائیں

نئی دہلی: ہماری اس دنیا میں ’قومی ہیروز‘ کو اس قدر عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے کہ لوگ انہیں بشری غلطیوں سے بھی ماوراء گرداننے لگتے ہیں اور ان کی شخصیت کا کوئی ناپسندیدہ پہلو سامنے آ جائے تو اس پر بات کرنا بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ان ہیروز کی زندگیوں کے خفیہ گوشے تاریخ کے اوراق میں ضرور محفوظ رہتے ہیں۔ موہن داس کرم چند گاندھی المعروف مہاتما گاندھی بھی ایسے ہی قومی ہیرو ہیں جنہیں بے حد عزت و تکریم نصیب ہوئی۔ تاہم مورخین و تحقیق کاروں نے اپنی تصانیف میں ان کے متعلق ایسے شرمناک انکشافات کر رکھے ہیں جو اب تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے۔ مورخین کہتے ہیں کہ گاندھی جنسی اعتبار سے خاصے بے راہرو تھے اور اپنے اردگرد موجود خواتین کا جنسی استحصال کرتے تھے۔ گاندھی نے اپنی خودنوشت میں اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے مرتے ہوئے باپ کو چھوڑ کر ازدواجی مسرت کے لئے اپنی بیوی کے پاس چلے گئے تھے اور اسی دوران ان کے والد نے آخری ہچکی لی۔
جوزف لیلیویلڈ (Joseph Lelyveld) کی کتاب Mahatma Gandhi and His Struggle with India پر بھارت کی کئی ریاستوں میں پابندی عائد کر دی گئی تھی کیونکہ اس میں گاندھی کے ہم جنس پرست ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ جوزف لیلیویلڈ نے کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ گاندھی ہم جنس پرست بھی تھے اور جرمنی کے باڈی بلڈر اور ماہرتعمیرات ہرمن کیلن بیک (Hermann Kallenbach)کے ساتھ ان کے جنسی روابط تھے۔‘‘ کئی مبصرین نے تو یہاں تک انکشاف کر رکھا ہے کہ گاندھی ہم جنس پرستوں کے ساتھ تعلق کے دوران ویزلین (Vaseline)استعمال کرتے تھے۔ان مبصرین نے اس کی دلیل کے طور پر گاندھی کے ہرمن کو لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے ہرمن کو لکھا تھا کہ ’’دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ویزلین اور روئی کے گالے مجھے مسلسل تمہاری یاد دلاتے رہتے ہیں۔‘‘

اینڈریو رابرٹس نے وال سٹریٹ جرنل میں اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ’’ گاندھی کے بیڈروم میں بیڈ کی مخالف سمت میں صرف ایک تصویر موجود تھی اور وہ ہرمن کی تھی۔‘‘ کتاب میں ڈیلی میل میں اس وقت چھپنے والی ایک خبر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کی شہ سرخی تھی کہ ’’ گاندھی نے ایک مرد محبوب کے ساتھ رہنے کے لیے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔‘‘اس کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’جرمن شخص گاندھی کی خفیہ محبت تھا۔‘‘مورخین نے لکھا ہے کہ گاندھی اپنی عمر کے چوتھے عشرے میں ’’پاکیزگی‘‘ کی طرف مائل ہو گئے تھے اور تب وہ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ برہنہ سوتے تھے تاکہ یہ چیک کر سکیں کہ وہ جنسی اعتبار سے خود پر قابو پا سکتے ہیں یا نہیں۔ اپنی عمر کے اس حصے میں وہ نوبیاہتا جوڑوں کو بھی نصیحت کرتے تھے کہ وہ آپس میں جسمانی تعلق قائم کرنے سے گریز کریں تاکہ ان کی روحیں پاکیزہ رہ سکیں۔

مصنف کے بارے میں