ایمسٹرڈیم : جدید دور میں بچوں کی پیدائش کوئی سیدھا سادہ کام نہیں رہا۔ آج کل تولید ی مسائل سے دوچار جوڑے میڈیکل سائنس کی مدد سے حصول اولاد کو ممکن بنا رہے ہیں، لیکن پیچیدہ قسم کی ٹیکنالوجی کبھی کبھار دھوکہ بھی دے جاتی ہے اور نتیجہ کچھ کا کچھ نکل آتا ہے۔ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، فرٹیلٹی کلینک کی غلطی کی وجہ سے بیچاری اپنے خاوند کی بجائے کسی اور مرد کے بچے کی ماں بن گئی۔
  خاتون اپریل 2015ءکے وسط میں حاملہ ہوئیں۔ چونکہ یہ فطری طریقے سے حاملہ نہیں ہو پا رہی تھیں، لہٰذا ٹیسٹ ٹیوب طریقے سے بچے کی پیدائش کے لئے ایک فرٹیلٹی کلینک کی مدد حاصل کی۔ انہیں خدمات فراہم کرنے والے آئی وی ایف کلینک نے حمل کے بعد بتایا کہ غلطی سے انہیں خاوند کی بجائے کسی اور مرد کے سپرم فراہم کر دئیے گئے تھے، یعنی یہ غلط آدمی کی جانب سے دئیے گئے سپرم سے حاملہ ہوچکی تھیں۔

یونیورسٹی میڈیکل سنٹر یو ٹریکٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ 26 دیگر خواتین بھی غیر متوقع طور پر کسی دوسرے مرد کے سپرم سے حاملہ ہوچکی ہیں۔ کلینک کی جانب سے ممکنہ طور پر متاثرہ خواتین کو اس معاملہ کی اطلاع کردی گئی ہے اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ اس سے پہلے 2012ءمیں سنگاپور میں ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آ چکا ہے۔ وہاں بھی ایک خاتون کو غلطی سے کسی غیر مرد کے سپرم سے حاملہ کر دیا گیا تھا۔ خاتون نے کلینک کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور بھاری ہرجانے کی حقدار قرار پائی تھی۔

 

مصنف کے بارے میں