سعد رفیق نے ایسا کچھ نہیں کہا جس پر فوری ردعمل آیا، خورشید شاہ

لاہور: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ طاہر القادری سے ملاقات کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے بھی ملاقات ہوئی ہے جب ماڈل ٹاؤن کا قتل عام ہوا تو بھی ہم آئے. جنازوں اور احتجاج میں بھی شریک ہوئے تھے جبکہ ماڈل ٹاؤن والوں کے حق و انصاف کے لیے کھڑے ہوئے تھے اور آج بھی اس پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حق میں ہیں اس معاملے پر پہلے دن سے پوزیشن لیے ہوئے ہیں یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم ہونا چاہیے اگر ہمار پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو ہم یہ کام کر جاتے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ فاٹا معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کسی مجبوری کی وجہ سے اس معاملے کو روکے ہوئے ہے۔ سب کو پتا ہے اس میں کیا مسئلہ ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کا واضح مؤقف ہے اور بھی کچھ جماعتیں ہیں جن کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن یہ تھوڑے دن کا ہی مسئلہ ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ہماری سیاست دھرنوں کی نہیں بلکہ جمہوریت کی ہے۔ چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت چلے اور الیکشن وقت پر ہوں جب کہ ہم کسی سیاسی جماعت سے دوریاں نہیں چاہتے۔ ملک میں سیاست، سیاسی عمل، جمہوریت اور پارلیمان چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لڑائی، مارا ماری نہیں چاہتے بلکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ملک میں سیاست کیسے ہونی چاہیے۔ اس میں انتقام اور دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔ سعد رفیق کے بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے رد عمل پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سعد رفیق کا بیان تفصیل سے پڑھا اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جس پر آئی ایس پی آر کا رد عمل آیا یہ نہیں آنا چاہیے تھا وہ ایک ادارہ ہے ان کے ایک ایک لفظ کی اہمیت ہے اس لیے اتنی جلدی ردعمل نہیں آنا چاہیے تھا۔

سید خورشید شاہ نے مزید کہا کہ دھرنے دینا یا احتجاج کرنا آئینی حق ہے لیکن یہ پر امن ہونا چاہیے اور احتجاج ایوانوں تک پہنچنا چاہیے مگر اس کی کوئی حد ہو جس سے عوام پریشان نہ ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا حالیہ دھرنے سے خطرناک پیغام گیا اور دنیا نے اس پیغام کو ہماری طرف واپس بھیجا کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔ لوگوں نے پاکستان کو خطرناک ملک کہا لیکن ہم اس قسم کے دھرنوں کے خلاف ہیں۔

ن لیگی قیادت کے سعودی عرب جانے سے متعلق سوال پر خورشید شاہ نے کہا کہ قوم دیکھ رہی ہے یہ سعودی عرب کیوں گئے اور کس لیے جا رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے اب اگر اس کے بعد کچھ ہوتا ہے تو معاملہ ٹھیک ہونے کی طرف جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا بہت احترام ہے مگر پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اس کی اپنی پالیسی اور قانون ہونا چاہیے۔ ہمارا اپنا آئین ہے، ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں بلکہ دوسرے کے دروازے کو کھٹکھٹانا بڑا تکلیف دے رہا ہے۔

 

خورشید شاہ نے کہا کہ اس بار عدالت نے سزائیں دیں اور نااہلی ہوئی لیکن آج جو ہو رہا ہے وہ معافی تلافی کی طرف نظر آتا ہے۔ اس این آر اور ماضی کے این آر او میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس میں سزا، نااہلی اور کرپشن کے کیسز ہے، یہ سب لاڈلوں کا مسئلہ ہے جب کہ اس قسم کی باتیں ہو گئیں تو بڑے بڑے تالے اداروں کو لگانے پڑیں گے۔

 

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خواہش ہے حکومت مدت پوری کرے اور اسے کرنی بھی چاہیے۔ ہمارے پاس آئین ہے اگر حکومت مدت پوری نہیں کرتی تو آئین کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان اور نواز شریف لاڈلے ہیں، کھیلنے کو مانگے چاند۔

 

اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ اس بار ملک میں انتخابات کے ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ایک ہی روز انتخابات کرائے جائیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں