نئی دہلی: بھارتی نیوز ویب سائٹ نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل رین نے ڈوکلام تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرحدی دستوں کو قابو میں رکھنا بھارت کی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل بھی کیا جائے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چینی فوج نے2017ء میں اپنے علاقے کا پورے عزم سے دفاع کیا ہے۔

ترجمان کرنل رین نے کہا کہ چینی فوج بھارت کے ساتھ ڈوکلام تنازع سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے ساتھ ہی بحیرہ جنوبی چین میں بھی اپنے اقتدار اعلیٰ کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف بھارت کا کہنا ہے کہ وہ کیملاش مان سرور یاترا کے لیے چین سے رابطے میں ہے جو 2017ء میں ڈوکلام تنازع کی وجہ سے نہیں ہو سکی تھی۔

یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں ڈوکلام کے علاقے میں ایک سڑک کی تعمیر کے معاملے پر چینی اور بھارتی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئی تھیں۔ یہ علاقہ بھارت کے شمال مشرقی صوبے سکم اور پڑوسی ملک بھوٹان کی سرحد سے ملتا ہے۔ اس علاقے کی ملکیت کے حوالے سے بھوٹان اور چین کا تنازع کافی عرصے سے جاری ہے جبکہ بھارت بھوٹان کی حمایت کرتا ہے۔

رواں برس جولائی میں چین نے یہاں سڑک کی تعمیر شروع کی جس کے بعد بھوٹان کی حمایت میں بھارت نے یہاں اپنی فوجیں بھیجیں تاکہ نئی سڑک کی تعمیر کو روکا جا سکے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں