کرتاپور راہداری کو کھولنے کافیصلہ حکومت کا نہیں جنرل باجوہ کا تھا:چودھری نثار

کرتاپور راہداری کو کھولنے کافیصلہ حکومت کا نہیں جنرل باجوہ کا تھا:چودھری نثار
نیو نیوز سکرین گریب

راولپنڈی:سابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ کرتاپور راہداری کو کھولنے کافیصلہ حکومت کا نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل باجوہ کا تھا، ملکی حالات کو دیکھ کر کچھ نہ بولنا ہی بہتر ہے ،تحفظات دور نہ کیے گئے تو یہ احتساب انتقام ہوگا۔


تفصیلات کے مطابق چودھری نثار نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے تحفظات دور کرے،ملک کو استحکام کی ضرورت ہے،ملک اپوزیشن کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا،کوئی ملک سیاسی استحکام کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔سابق وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ اس وقت شدید ترین سیاسی بحران چل رہا ہے،جمہوری نظام اپوزیشن کے بغیر پنپ نہیں سکتا،صوبائی سیٹ سے 36ہزار ووٹوں سے جیتا،حلف اس لئے نہیں لیا کیونکہ میں نتائج کو تسلیم ہی نہیں کرتا،یہ کون سی منطق ہے،قومی میں ہزاروں ووٹ کم اورصوبائی میں36ہزارسے اکثریت۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ کرتارپور کی راہداری حکومت نے نہیں جنرل باجوہ نے کھولی ہے،حکومت بھارت سے مذاکرات کیلئے ترلے کررہی ہے،مودی حکومت کا ایجنڈا مسلمان اور پاکستان مخالف ہے،مذاکرات کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے جبکہ مودی حکومت پاکستان سے اچھے تعلقات نہیں چاہتی،ایسے ماحول میں بار بارمذاکرات کی باتیں کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں،مذاکرات کیلیے مودی کی منتیں کرنا غیرت کے منافی ہے۔

چودھری نثار نے کہا کہ میں نے مشورہ دیاتھاعدلیہ وفوج کوبراہ راست ہٹ کرنے کے الفاظ نرم کریں،میرا مشورہ مانا جاتاتو آج مسلم لیگ ن کی حکومت ہوتی ۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ متنازع احتساب اس ملک کیلئے زہر قاتل ہے ،امدادلے کر چند ماہ گزارنے سے پاکستان کی ترقی کہاں سے نظر آئے گی ؟ پہلے غیروں کے قرضوں میں جکڑے ہوئے تھے اب کہیں دوستوں کے شدید قرضوں میں نہ جکڑجائیں ،یو اے ای اورسعودیہ سے امداد وقتی ہے جبکہ عمران خان نے سفیروں سے خود انحصاری کی بات کی وہ تو نظر نہیں آرہی ۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ میں اپنے حلقے میں بہت سرگرم ہوں ،نیب یاعدالت کافیصلہ ہوتوحکومت کہتی ہے ہم نے کیا اس سے معاملات متنازع ہوتے ہیں،احتساب حکومتیں نہیں ادارے کرتے ہیں ،احتساب کے طریقہ کا رمیں شفافیت کی ضرورت ہے ،اپوزیشن ،صرف نواز شریف ،شہباز شریف اور زرداری نہیں ،پوری جماعتیں ہیں ،حکومت سمجھ لے ملک اپوزیشن کے بغیر نہیں چل سکتا جبکہ جتنی چادر ہو اتنے پائوں پھیلانے چاہئیں ۔

سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ کا احتساب حکومت نہیں سپریم کورٹ کر رہی ہے  جبکہدوستی تعلق اپنی جگہ ہوتاہےسیاست اصولوں کےتحت چلانا چاہیے۔