سپریم کورٹ نے سابق چیئر مین عطا الحق قاسمی کی تعیناتی کا ریکارڈ طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے سابق چیئر مین عطا الحق قاسمی کی تعیناتی کا ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین ٹی وی عطاء الحق قاسمی کی تنخواہ و مراعات سمیت ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی کے عمل کا مکمل ریکارڈ طلب جمعرات تک طلب کرلیا ہے عدالت نے حکم دیا ہے کہ بتایا جائے ایم ڈی پی ٹی وی کی دو سال سے تعیناتی کیوں نہیں ہوئی اور تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، ڈیڑھ سال بعد تعیناتی کے لیے اشتہار کیوں جاری کیا گیا ۔پیر کو ایم ڈی پی ٹی وی کی عدم تعیناتی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت جسٹس عمر عطاء4 بندیال نے کہا کہ کیا حکومت کو اتنے عرصے میں کوئی کام کا بندا نہیں ملا؟ نجی چینلز پر خبریں اکثر غلط چلتی ہیں، ایسے میں پی ٹی وی کا کردار اہم ہوتا ہے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی وی کو آزاد ادارہ ہونا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے پی ٹی وی اصلاحات کیلئے کمیٹی بنا دی ہے، وفاقی سیکرٹری اطلاعات قائمقام ایم ڈی پی ٹی وی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری اطلاعات کے ماتحت پی ٹی وی آزاد کیسے ہوگا؟ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سرکاری ٹی وی پر کوریج ملنی چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے عطاء الحق قاسمی کی تنخواہ و مراعات ایم ڈی کی تعیناتی کے عمل کا تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بتایا جائے دو سال سے تعیناتی کیوں نہیں ہو سکی، ڈیڑھ سال بعد تعیناتی کیلئے اشتہار کیوں جاری کیا گیا، تاخیر کا ذمہ دار کون ہے آگاہ کیا جائے، سپریم کورٹ نے پی ٹی وی ملازمین کی پنشن و مراعات سے متعلق کیس کے دوران ایم ڈی پی ٹی وی کی عدم تعیناتی کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا تھا۔