سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کی تحقیقات کومسترد کردیا

سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کی تحقیقات کومسترد کردیا
فائل فوٹو

لاہور:سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کی تحقیقات کومسترد کردیا ۔ذرائع کے مطابق سانحہ ساہیوال کے متاثرین سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے ملاقات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔


ذیشان کی والدہ کا کہنا ہے کہ انصاف کی امید لے کر اسلام آباد جا رہے ہیں۔ذیشان کے بھائی احتشام نے کہا جے آئی ٹی سے مطمئن نہیں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ سانحہ ساہیوال کا کیس فوجی عدالت میں چلنا چاہیے۔

احتشام نے تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔خلیل کے بھائی جلیل نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات مستر د کرتے ہیں،دھمکیاں نہیں ملیں وکیل کا اپنا موقف ہے،پولیس نے ہی ظلم کیا انصاف کیسے کر سکتی ہے، کیس کی حساسیت کے مطابق تحقیقات فوجی عدالت میں ہونی چاہیے۔

مقتول خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہی ظلم کیا انصاف کیسے کر سکتی ہے،ظلم کاحساب مانگنا بھی جرم بن گیا۔دوسری جانب سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندانوں کو سی ٹی ڈی حکام کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگیں ،خلیل کی فیملی کے وکیل کو مبینہ سی ٹی ڈی آفیسرکیس سے علیحدگی کیلئے دھمکانے لگا ،کیس کی پیروی نہ کرنے کا مشورہ دے دیا ،آڈیو کال کی ریکارڈنگ سامنے آگئی ۔

جلیل کے وکیل نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔مبینہ سی ٹی ڈی آفیسر نے خلیل کی فیملی کے وکیل سے کہا کہ ادارے آپ سے خوش نہیں بردرانہ مشورہ ہے آپ معاملے سے علیحدگی اختیار کرلیں ۔

دوسری جانب جے آئی ٹی ارکان نے مزید دو عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ کیے ہیں، ہیومین رائٹس کے نمائندوں نے بھی جے آئی ٹی اور عینی شاہدین سے ملاقات کی اور سانحہ کے شواہد اکٹھے کئے۔

ادھر پوسٹ مارٹم رپورٹ کےمطابق ذیشان،خلیل،اریبہ اور نبیلہ کو سی ٹی ڈی والوں نے اتنی قریب سے گولیاں ماریں چاروں کی جلد تک جل گئی اور سرمیں بھی گولیاں لگیں ۔